تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 67

استاد کے وجود پر زور دیا گیا ہے مگر یہاں شاگردوں کی قابلیت پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔خواہ یہ کہہ دو کہ استاد نے شاگرد کو پڑھایا یا یہ کہہ دو کہ شاگرد نے استاد سے پڑھا۔اس سے کلام میںکوئی خاص فرق نہیںپڑ سکتا سوائے اس کے کہ جب ہم کہتے ہیں استاد نے پڑھایا تو اس میںزیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ استاد نے محنت کی اور اس نے توجہ سے اپنے فرض کو ادا کیا اور جب ہم کہتے ہیںشاگرد نے استاد سے پڑھا تو اس میںزیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ شاگرد نے بھی محنت سے کام لیا۔اسی طرح وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى میں زیادہ زور اس بات پر ہے کہ دن روشن ہو گیا یعنی جو زمین کی نسبت رکھنے والا یا شاگردکی نسبت رکھنے والا وجود ہے اس کی قابلیتوں پر زور دیا گیا ہے مگر وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا میں سورج یعنی استاد کی قابلیتوں پر زور دیا گیا ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اس سورۃ میں گو مثال رات اور دن کی دی گئی ہے جیسے پہلی سورۃ میں رات او ر دن کی مثال دی گئی تھی مگر مفہوم الگ الگ ہے۔پہلی سورۃ میں دن کی روشنی کا پہلے ذکر کیا تھا اور اس کے مقابل پر شمس کا بھی پہلے ذکر تھا۔چنانچہ پہلے نمبر پر وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا کہا گیا تھا اور اس کے مقابل میں وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا کا ذکر تھا۔دوسرے نمبر پر قمر کا ذکر تھا جیسا کہ فرمایا وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا اور اس کے مقابل میں وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا کا ذکر تھا۔گویا شمس کے مقابلہ میں نہار کو رکھا گیا تھا اور قمر کے مقابلہ میں لیل کو۔پھر جس طرح شمس کو پہلے بیان کیا تھا اور قمر کو بعد میں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نہار کو پہلے رکھا تھا اور لیل کو بعد میں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں شمسِ نبوت اور قمرِرسالت کا ذکر تھا۔افاضہ اور استفاضہ کا مضمون بیان کیا گیا تھا اور اس امر کا ذکر کیا گیا تھا کہ فلاں نے نور کا افاضہ کیا اور فلاں نے اُس سے فیض حاصل کیا۔اس مناسبت کی بنا ء پر پہلے نور اور دن کا ذکر تھا اور بعد میںرات اور قمر کا ذکر تھا مگر یہاں رات کا ذکر پہلے ہے اور دن کا بعد میں۔کیونکہ اس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کمالات کا ذکر اصل مطلوب نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور کفار کا مقابلہ کیا گیا ہے۔پس بوجہ کفر کے مقدم اور کثیر ہونے کے رات کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور دن کابوجہ مسلمانوں کے موخرالزمان اور تھوڑے ہونے کے بعد میںکیا گیا ہے۔پہلی سورۃ میں یہ ذکر تھا کہ دنیا کو منور کرنے کے لئے ہم نے ایک روحانی سورج افقِ آسمان پر پید اکیا ہے دنیا اس سورج کی روشنی کو خواہ کس قدر چھپانا چاہے اب یہ قطعی طورپر ناممکن ہے کہ وہ اس روشنی کو روک سکے یا اس نور کو پھیلنے نہ دے۔یہ روشنی اب بڑھے گی اور بڑھتی چلی جائے گی یہاں تک کہ ساری دنیا کو ڈھانپ لے گی۔مگر ایک لمبا عرصہ گذرنے کے بعد پھر ایک زمانہ ایسا آئے گاجس میں یہ سورج لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے گا زمین والے اپنی پیٹھ موڑ لیں گے تاریکی چھا جائے گی اور روشنی جاتی رہے گی اس وقت اللہ تعالیٰ پھر ایک قمر پیدا کرے گا جو