تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 66
بلکہ دوسری اشیا ء بھی اوجھل ہو گئی ہیں۔قرآن کریم میں ایک جگہ یہ مضمون آتا ہے کہ رات دن کو ڈھانپتی ہے جیساکہ فرماتا ہے یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ (الاعراف: ۵۵) اسی طرح یہ بھی آتا ہے کہ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ (الفلق:۴) یعنی ہم پناہ مانگتے ہیں تاریک رات سے جب وہ ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے اور یہ بھی آتا ہے کہ رات سورج کو ڈھانپ لیتی ہے جیسا کہ اس سے پہلی سورۃ میں ہی فرمایا تھا وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا چونکہ ان تینوں معنوں کی آیت زیر تفسیر متحمل ہو سکتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم غور کریں کہ یہ تینوں معنے ہی اس جگہ پائے جاتے ہیںیا کسی دوسری دلیل کی وجہ سے ان میںسے صرف ایک یا دو معنے مراد ہیں ان کے سوا معنے مراد نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سورۃ میں ایک ایسا قرینہ پایا جاتا ہے جو اس کے معنوں کو محدود کر دیتا ہے اور جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ صرف یہی معنے مراد ہیں کہ جب رات ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے۔وہ قرینہ یہ ہے کہ یہاں وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی کے بعد وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى بیان ہوا ہے اگر وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى کی آیت وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی سے پہلے ہوتی تو اس آیت کے معنے کرتے ہوئے دن کو ڈھانکنے یا سورج کو ڈھانکنے کا مفہوم زیادہ قرینِ قیاس ہوتا مگر چونکہ یہاں وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی کی آیت کے بعد وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى کی آیت بیان ہوئی ہے اس لئے یہ قرینہ اس بات کی طرف ہماری راہنمائی کرتا ہے کہ یہاں دن یا سورج کی بجائے دوسری چیزوں کو ڈھانکنے کا مفہوم غالب طورپر پایا جاتا ہے پس بجائے اس کے کہ ہم تینوں معنے یہاں مراد لیں اُس قرینہ کی وجہ سے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اس آیت کے صرف یہی معنے ہوں گے کہ ہم رات کو شہادت کے طور پر پیش کر تے ہیںجبکہ وہ ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے یعنی انسان۔جانور اور دوسری چیزیںسب اندھیرے تلے آجاتی ہیں۔وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ۙ۰۰۳ اور دن کی جب وہ خوب روشن ہو جائے۔تفسیر۔اس آیت اور سورۃ الشمس کی آیت وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا میںایک فرق ہے وہاں نَـھَار کے بعد اِذَا جَلّٰىهَا کے الفاظ آتے ہیںمگر یہاں فرماتا ہے وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى وہاں یہ ذکر تھا کہ زمین سورج کے سامنے آکراس کو ظاہر کر دیتی ہے او ر یہاں یہ ذکر ہے کہ سورج کی روشنی سے مستفیض ہو کر دن روشن ہو گیا۔وہاں تمام اشارے اس بات کی طرف تھے کہ استاد اپنے فن میںکامل ہے وہ دنیا کو اپنے فیوض سے مستفیض کر دے گا گویا وہاں