تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 68

اس شمس سے اکتسابِ نور کر کے دنیا کو منور کردے گا۔پس چونکہ وہاں اسلام کے زمانہ سے بات شروع کی گئی تھی طبعی طور پر شمس اور نہار کا ذکر پہلے ہونا چاہیے تھا مگر یہاں کفر و اسلام کا مقابلہ ہے اور کفر چونکہ پہلے تھا اور اسلام بعد میں آیا اس لئے لَیْل کا پہلے ذکر کیا گیا اور نَـھَار کا بعد میں۔پھر یہ بات بھی ہے کہ کفر چونکہ اُس زمانہ میںکثیر تھا اور مسلمان اس زمانہ میں قلیل التعداد تھے اس مناسبت کی بنا ء پر بھی اللہ تعالیٰ نے لَیْل کا ذکر پہلے کیا اور نَـھَار کا بعد میں۔اور اس طرح یہ پیشگوئی کی کہ رات کی حالت جو تم پر طاری ہے وہ اب دورہونے والی ہے اس کے بعد دن کی حالت آئے گی یا اس رات کے نتیجہ میں جو جو گمراہیاں اور خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں ساکنینِ نہار اب ان کو دور کرنے والے ہیں۔(مزید تفصیل اس کی اگلی آیت کے نیچے آئے گی ) وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ۰۰۴ اور نر و مادہ کی پیدائش کی۔تفسیر۔وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى کی قرأت کے متعلق ایک اختلاف اس آیت کے متعلق حضرت ابو الدرداء کو سخت غُلُوّ تھا۔ان کے خیال میں مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى کی جگہ اس آیت میں وَالذَّكَرِ وَالْاُنْثٰى کے الفا ظ ہیں۔چنانچہ علقمہ سے ابن جریر نے روایت کی ہے کہ میں ایک دفعہ شام گیا تو ابو الدرداء قافلہ میں آئے اور پوچھا کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود ؓ سے قرأت پڑھا ہوا ہو؟ اس پر لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا۔اس پر میں نے بھی کہا کہ ہاں میںنے ان سے قرآن پڑھا ہے اس پر انہوں نے کہا کہ آپ نے عبداللہ بن مسعود کو یہ آیت کس طرح پڑھتے سنا ہے میں نے بتایا کہ وَ الَّيْلِ اِذَا یَغْشٰى۔وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى۔وَالذَّكَرِ وَالْاُنْثٰى۔اس پر ابوالدرداء نے کہا کہ میں نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے سنا ہے۔اور یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ میں وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى پڑھوں مگر میں ایسا نہیںکروںگا میں ان کے پیچھے نہیںچلوں گا(صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا، باب ما یتعلّق بالقراءات)۔یہ مضمون بتغیّر الفاظ و مطالب مختلف راویوں سے مختلف کتبِ حدیث میں حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے۔قرآن مجید کے بعض الفاظ کی مختلف قرأتیں اس بارہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ قرأتوں کا فرق شروع زمانہ سے چلا آیا ہے۔پوری واقفیت نہ رکھنے والے مسلمان بعض دفعہ ایسی روایتوںسے گھبر ا جاتے ہیں اور وہ خیال کرتے