تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 65
قوم کو ترقی حاصل ہو سکتی ہے۔اس سورۃ میں بھی وہی مضمون ہے مگر اس میںزور معلّم کی زندگی پر اس قدر نہیں دیا گیا جس قدر کہ متعلّمین اور ان کے مخالفوں کی زندگیوں کے فرق پر دیا گیاہے۔پہلی سورۃ میںیہ مضمون تھا کہ اچھے معلم کے بغیر قوم ترقی نہیں کر سکتی اور اب یہ مضمون ہے کہ اچھے معلم کو اگر اچھا متعلم مل جائے تو وہ دنیا کی کایا پلٹ دیتا ہے اور یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جو شاگرد ملے ہیںوہ ایسے اعلیٰ درجہ کے ہیںکہ ان کی زندگیوں کو دیکھ کر انسان کے دل میںیہ مایوسی پیدا ہی نہیںہو سکتی کہ عرب کی حالت کیوں کر پلٹا کھا ئے گی۔اللہ تعالیٰ کفار مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مل رہے ہیںان کی زندگیاںتمہاری زندگیوں سے بالکل مختلف ہیں۔دنیا میں اچھا استاد بڑا کام کر جاتا ہے او ر لائق شاگرد بھی بڑا کام کر جاتا ہے لیکن جہاں لائق استاد اور لائق شاگرد مل جائیں وہاں تو نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ کا معاملہ ہو جاتا ہے۔اگر اچھے استاد کو بُرے شاگرد ملیںتو اس کاکام اس قدر نہیںچمکتا اور نہ نالائق استاد کے اچھے شاگرد زیادہ ترقی کر سکتے ہیں۔مگر یہاںتو اچھے استاد کو اچھے شاگرد بھی مل گئے ہیں پس یہ دینِ محمدی ؐ کے غلبہ کی ایک بیّن علامت ہے (مزید تفصیل کے لئے دیکھو وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤى صفحہ ۶۸) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں)۔وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى ۙ۰۰۲ (مجھے ) قسم ہے رات کی جب وہ ڈھانک لے۔تفسیر۔اس سے پہلی سورۃ میںفرمایا تھا وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا یعنی رات کو ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ وہ سورج کو ڈھانپ لیتی ہے مگر ا س سورۃ میں يَغْشٰى کا کوئی مفعول بیان نہیںہوا جس سے یہ پتہ لگے کہ غَشْیٌ کا عمل کس چیز پر ہوا ہے بلکہ اس کو بغیر کسی قید کے بیان کیا گیا ہے پس معلوم ہوا کہ يَغْشٰى کے معنے اس سورۃ میں زیادہ وسیع لئے گئے ہیں۔پہلی سورۃ میں تاریکی کا صرف وہ پہلو مراد تھا جو سورج کے ڈھانپنے سے ظاہر ہوتا ہے تاریکی کے دوسرے نتائج کی طرف اشارہ نہ کیا گیا تھا مگر اس جگہ اس کے علاوہ اور معانی بھی لئے جا سکتے ہیں۔چنانچہ الفاظ کے لحا ظ سے اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیںکہ رات کی تاریکی کی وجہ سے سورج ہی نہیں پوشیدہ ہوا