تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 64

کا ذکر کیا گیا ہے۔ایک ذکر تو ایسا ہوتا ہے جو اپنے اندر کوئی خصوصیت نہیںرکھتا صرف عمومی طور پر ایک بات کہہ دی جاتی ہے مگر یہ وہ سورتیںہیں جن کے تمام مضامین اس رنگ میںچلتے ہیں کہ صدقہ دینے والے یا نہ دینے والے، غرباء کی ضروریات پر خرچ کرنیوالے یا نہ خرچ کرنے والے قومی لحاظ سے اپنی اپنی حالت کے مطابق ترقی پا جاتے ہیں یا تباہ ہو جاتے ہیں۔یہی مضمون اس سورۃ میں بھی پایا جاتا ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا اِنِّیْ لَاَقُوْلُ اِنَّ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ نَزَلَتْ فِی السَّمَاحَۃِ وَالْبُخْلِ (فتح البیان سورۃ الیل ابتدائیۃ) یعنی میںیقیناً کہہ سکتاہوں کہ یہ سورۃ سخاوت اور بخل کے مضمون کے بیان کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے۔پس جب ایک روایت موجود ہے جو تاریخی لحاظ سے اس سورۃ کو مکی قرار دیتی ہے تو دلیل مرجّح کے طورپر اس سورۃ کی اندرونی شہادت بھی ان لوگوں کے ردّ میں پیش کی جاسکتی ہے جو اس کو مدنی کہتے ہیں اور ہم یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ نہ صرف روایات اس کو مکی قرار دیتی ہیںبلکہ اس سورۃ کا مضمون بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ روایت کے خلاف ہم کسی قیاس کو پیش کر دیں سوائے اس کے کہ وہ قیاس بعض دوسری روایتوں پر مبنی ہو مثلاً بعض دفعہ قرآن کریم میں ایک مضمون آتا ہے جسے ہم لوگوں کے سامنے بیان کر تے ہیںاب اگر اُس مضمون کے متعلق روایات میں اختلاف پایا جاتا ہو تو لازماً ان روایات کو ترجیح حاصل ہو گی جن کی تائید قرآنی مضمون سے بھی ہوتی ہو۔ورنہ واقعات کے بارہ میںمحض قیاس آرائی ثابت شدہ تاریخی روایات کے مقابلہ میںکوئی حقیقت نہیںرکھتی۔سر میور کا خیال ہے کہ یہ سورۃ بالکل ابتدائی سورتوں میںسے ہے۔پادری ویری لکھتے ہیں کہ یہ سورۃ ہے تو ابتدائی مگر تبلیغ عامہ کے زمانہ کی ہے یعنی تیسرے چوتھے یا پانچویںسال کی ہے کیونکہ اس میںمنکروں کے لئے عذاب کی خبر ہے(A Comprehensive Commentary on the Quran vol:4 page251) پادری وہیری کا یہ خیال میرے نزدیک درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس جگہ انذار عام قسم کا نہیں بلکہ اس میںخاص اور قریب میںآنے والے واقعات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔جابر بن سمرہؓ سے بیہقی نے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ظہر اور عصر میں وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى اور اسی قسم کی سورتیںپڑھا کرتے تھے(فتح البیان سورۃ الیل ابتدائیۃ)۔ترتیب اس سورۃ کا مضمون بھی وہی ہے جو پہلی سورتوں میں بیان ہوتا آرہا ہے یعنی اس میں بھی ترقی اسلام کا ذکر ہے پہلی سورتوں اور اس سورۃ کے مضمون میں فرق صرف یہ ہے کہ اس سے پہلی سورۃ میںیہ نقطۂ نگاہ بیان کیا گیاتھا کہ ایک نظام کامل کے لانے والے کے بغیر کعبہ کی تعمیر کی غرض پوری نہیںہوتی اور ایسے ہی وجود کے آنے سے