تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 63
اصلی معنوں میں ہے کیونکہ کسی صحابی کا قول مقابل میں نہیںآتا۔اگرچہ بعض لوگوں نے اس کو مدنی بھی کہا ہے مگر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت عبدا للہ بن زبیر ؓ دونوں اس کو مکی قرار دیتے ہیں (فتح البیان سورۃ البیان ابتدائیۃ) اور چونکہ یہ دو جلیل القدر صحابہؓاس سورۃ کے مکی ہونے کی تائید میںہیں اور اس کے خلاف کسی صحابی کا قول ثابت نہیںاس لئے ہم جمہور کے معنے یہاں غالب اکثریت کے ہی قرار دیںگے۔بعض مفسرین کہتے ہیں یہ سورۃ مکی بھی ہے او ر مدنی بھی(روح المعانی زیر سورۃ الّیل)۔درحقیقت یہ ایسے ہی لوگوں کا خیال ہوتا ہے جو مضامین سے سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کا فیصلہ کیا کرتے ہیں۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ مضامین کی بناء پر بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے بلکہ میں نے خود کئی مقاما ت پر مضامین سے استنباط کر کے بتایا ہے کہ ان مضامین کی بناء پر فلاں فلاں روایات کو ترجیح حاصل ہے مگر یہ درست نہیں ہوتا کہ کوئی شخص محض قیاس سے فیصلہ کر دے۔قیاس کسی واقعہ یا روایت کی تائید میں تو مفید ہو سکتا ہے مگر تاریخ کے مقابلہ میں صرف قیاس پر اعتماد درست نہیں ہوتا۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک شخص پوری کنہ تک نہ پہنچ سکے اور وہ عقلی طور پر کوئی قیاس کر لے۔مثلاً مضمون سے قیاس کر لیا اور ایک نتیجہ نکال لیا مگر یہ کہنا کہ ضروری ہے کہ فلاں قسم کا مضمون مدنی سورتوں میںہی پایا جائے یا مکی سورتوں میں ہی پایا جائے یہ وہی غلطی ہے جس میں یوروپین مصنفین مبتلا ہوئے ہیں۔مثلاً تاریخ کہتی ہے کہ فلاں سورۃ مکی ہے مگر وہ کہہ دیتے ہیں کہ نہیںیہ سورۃ تو مدنی ہے کیونکہ اس میںفلاں فلاں ذکر پایا جاتا ہے یا تاریخ کسی سورۃ کو مدنی کہتی ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ سورۃتو مکی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں فلاں فلاں مضمون آتا ہے حالانکہ یہ صرف ان کا قیاس ہوتاہے اور قیاس تاریخ کے مقابل پر نہیںلایا جا سکتا۔ہاں اگرتاریخ کسی سورۃ کو مکی کہتی ہو اور اس کی تائید میں ہم کوئی قیاس لے آئیں تو یہ درست ہو سکتا ہے یا تاریخ کسی سورۃ کو مدنی کہتی ہو اور ہم اس کی تائید میں کسی قیاس سے بھی کام لے لیںتو یہ جائز ہو گا۔بہر حال مضمون سے قیاس کرنا دلیل مرجّح تو بن سکتا ہے بالذات دلیل نہیںقرار پا سکتا۔چنانچہ اس سورۃ کے متعلق برخلاف ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے مضمون کی وجہ سے بغیر کسی تاریخی شاہد کے اسے مدنی قرار دیا ہے میں یہ استنباط کرتا ہوں کہ یہ سورۃ مکی ہے اور وہ اس طرح کہ اس سورۃ سے پہلی دو سورتیں اور اس کے بعد کی دو سورتیںمکی ہیںاور ان دونوں سورتوںسے مضمون کے لحاظ سے یہ سورۃ بہت قریبی مشارکت رکھتی ہے اور چونکہ تاریخی شہادت بھی ا س امر کی ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔اس لئے میری یہ دلیل دلیل کہلانے کی مستحق ہے کیونکہ تاریخی شہادت کی تائید میں ہے۔میںپہلے بتا چکا ہوں کہ پہلی چند سورتوں میںمسلسل ایک خاص رنگ میںصدقہ و خیرات اور غریبوں کی خبر گیری