تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 59

اس قسم کے سفروں سے رک جائیںگے اور تبلیغ میں روک پیدا ہو جائے گی۔حضرت صالح علیہ السلام نے ان کو سمجھایا کہ تم اس ناقہ کو آزاد پھرنے دو اور اس کے پانی پینے میں روک نہ بنو کیونکہ اس طرح میری تبلیغ میںرو ک واقعہ ہو جائے گی۔یہ مطلب نہیں تھا کہ تم مجھے تو اپنے پاس بے شک نہ آنے دو مگر یہ اونٹنی آئے تو اسے پانی پلا دینا۔اُنہیں اونٹنی سے کوئی دشمنی نہیںتھی انہیں اگر دشمنی تھی تو حضرت صالح علیہ السلام سے۔اور وہ کہتے تھے کہ وہ اونٹنی پر سوار ہو کر ارد گرد کے علاقوں میں ایک شور پید اکر دیتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی طرف توجہ دلاتے ہیںایسا نہیں ہونا چاہیے۔یہ چیز تھی جو ان کی طبائع پر سخت گراں گزرتی تھی او ر آخر اس کا علاج انہوں نے یہ سوچا کہ جب حضرت صالحؑ باہر نکلتے تو ان کی اونٹنی کو وہ کہیں پانی نہ پینے دیتے اس پر حضرت صالح علیہ السلام نے اظہارِ ناراضگی کرتے ہوئے کہا نَاقَۃَ اللّٰہِ وَ سُقْیٰھَا کہ یہ طریق درست نہیں، تم میری اس ناقہ کو آزاد پھرنے دو اور اس کے پانی میں روک نہ بنو یعنی تم مختلف ذرائع سے میری تبلیغ میں روک بن رہے ہو اپنے اس طریق کو چھوڑ و اور مجھے آزاد پھرنے دو تا کہ میں خدا تعالیٰ کا پیغام سب لوگوں تک پہنچاتا رہوں۔میں نے بعض دفعہ گھوڑے کی سواری کرتے ہوئے خود تجربہ کیا ہے کہ جب کسی احمدی گائوں کے قریب سے گذروں تو وہاں کے لوگ بعض دفعہ میرے گھوڑے کی باگ پکڑ لیتے ہیں اُن کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ میں تو گھوڑے سے اتر پڑوں اور گھوڑا ان کے حوالے کر دوں تا کہ وہ اسے اپنے گائوں میں لے جائیںبلکہ ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میںخود تھوڑی دیر کے لئے ان کے گائو ں میںچلوں۔اسی طرح ثمود کی یہ غرض نہیںتھی کہ وہ ناقہ کو روکیںبلکہ ان کی غرض یہ تھی کہ وہ حضرت صالح علیہ السلام کو تبلیغ سے روکیںاور جب حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے کہا کہ میری اس ناقہ کو چھوڑ دو تو ان کا بھی یہ مطلب نہیں تھا کہ میرے ساتھ تو جیسا چاہو سلوک کرو مگر اس ناقہ کو کچھ نہ کہو بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ تم میری تبلیغ میںروک مت بنو اگر تم اسی طرح میری اونٹنی کو پانی پینے سے روکتے رہے تو میری تبلیغ رک جائے گی اور علاقوں کے علاقے ہدایت پانے سے محروم رہ جائیںگے۔فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ اس پر انہوں نے اس (رسول) کو جھٹلایا۔پھر اس (اونٹنی ) کی کونچیںکاٹ دیں۔حلّ لُغات۔عَقَرُوْا عَقَرُوْا : عَقَرَ سے جمع کا صیغہ ہے اور عَقَرَ الْاِبِلَ کے معنے ہوتے ہیں قَطَعَ