تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 541
فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌؕ۰۰۴ جن میں قائم رہنے والے احکام ہوں۔حلّ لُغات۔قَیِّمَۃ قَیِّمَۃ۔قَیِّمٌ کے معنے متولّی کے ہوتے ہیں چنانچہ لغت میں لکھا ہے اَلْقَیِّمُ عَلَی الْاَمْرِ مُتَوَلِّیْہِ یعنی جب یہ کہا جائے کہ فلاں کام پر فلاں شخص قَیِّم ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ اُس کا متولّی ہے۔وَھِیَ قَیِّمَۃٌ اور اگر کوئی عورت متولّیہ ہو تو اُسے قَیِّمَۃٌ کہا جائے گا۔وَالْقَیِّمَۃُ: اَلدِّ یَا نَۃُ الْمُسْتَقِیْمَۃُ۔اور قَیِّمَۃٌ کے ایک معنے ایسے مذہب کے بھی ہوتے ہیں جس میں کوئی کجی نہ پائی جاتی ہو۔( اقرب) قَیِّمَۃ کے معنے امام راغب کے نزدیک مفردات میں لکھا ہے دِیْنًا قَیِّـمًا اَیْ ثَابِتًا مُقَوِّمًا لِاُمُوْرِ مَعَاشِھِمْ وَ مَعَادِھِمْ یعنی دِیْنِ قَیِّمْ کے معنے ہیں ثابت رہنے والا دین، غیر مترلزل دین جو لوگوں کی معاش اور اُن کی معاد کو ٹھیک کردینے والا ہو۔پھر کہتے ہیں یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ فَقَدْ اَشَارَ بِقَوْلِہٖ صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً اِلَی الْقُرْاٰنِ وَبِقَوْلِہٖ کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ اِلٰی مَا فِیْہِ مِنْ مَعَانِیْ کُتُبِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَاِنَّ الْقُرْاٰنَ مَـجْمَعُ ثَـمَرَۃِ کُتُبِ اللّٰہِ تَعَالٰی الْمُتَقَدِّمَۃِ یعنی یہ جو قرآن کریم میںآتا ہے کہ فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ اِن الفاظ سے اللہ تعالیٰ نے اِس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سابق الہامی کتب کے جس قدر مطالب ہیں وہ اس میں آ گئے ہیں کیونکہ قرآن کریم گذشتہ تمام الٰہی کتب کی تعلیمات کا مجموعہ ہے گویا فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ کے معنے یہ ہیں کہ وہ سب تعلیمیں جو گذشتہ انبیاء کے زمانہ میں نازل ہوئی تھیں اُن میں سے ایسی تعلیمیں جو قائم رہنے کی مستحق تھیں اور بنی نوع انسان کی معاش اور اُن کے معاد کو درست کرنے والی تھیں وہ ساری کی ساری تعلیمیں قرآن کریم میں آ گئی ہیں۔تفسیر۔قَیِّمَۃٌ کے معنے متولّی اور مستقیم کے بیان کئے جا چکے ہیں اُن معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔قرآن مجید میں كُتُبٌ قَيِّمَةٌ ہونے سے مراد اوّل اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ قرآن کریم میں ایسے احکام ہیں جو انسان کے متولّی ہیں۔متولّی اُس کو کہا کرتے ہیں جو دوسرے کی اصلاح کرتا ہے، اُس کی نگرانی کا فرض ادا کرتا ہے، اُس کی حفاظت کرتا ہے اور اُس کی قوتوں کو صحیح کاموں پر صرف کرتا ہے۔پس فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ کے یہ معنے ہوں گے کہ قرآن کریم میں ایسے احکام پائے جاتے ہیں جن سے بنی نوع انسان کو ہر قسم کی ذلّت اور خرابی اور نقص سے بچایا جاتا ہے۔اُن کی صحیح تربیت کی جاتی ہے اور اُنہیں اپنے قویٰ کو بہتر سے بہتر طور پر استعمال کرنے کا