تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 542

طریق بتایا جاتا ہے گویا فطرتِ انسانی کو ہر قسم کے نقص سے بچانے اور اپنی طاقتوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ طور پر ظاہر کرنے کا کام وہ سکھاتا ہے۔(۲)اِسی طرح فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ ایسا مذہب پیش کرتا ہے جو ہر قسم کی کج رویوں اور خرابیوں سے پاک اور سیدھے راستے پر لے جانے والا ہے۔(۳) اور فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ کے یہ بھی معنے ہوں گے کہ وہ انسان کی تمام ضرورتوں کو خواہ اِس دنیا سے تعلق رکھنے والی ہوں خواہ مرنے کے بعد کی زندگی سے تعلق رکھنے والی ہوں پورا کرتا ہے اور اس میں ایسی تعلیم پائی جاتی ہے جو بدلنے والی نہیں قائم رہنے والی اور ثابت رہنے والی تعلیم ہے۔گویا صحفِ مطہرہ میں تو زیادہ زور پچھلی تعلیموں کی خرابیوں کو دور کرنے اور شرک سے بچانے پر تھا اور فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ میں اس بات پر زیادہ زور دیا گیا ہے کہ اس میں ایسی تعلیم ہے جو آئندہ دائمی طور پر انسان کے لئے ضروری ہو گی اور غیر متزلزل اور اور غیر متبدل ہو گی۔مفردات راغب کے معنوں کے لحاظ سے فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ کے ایک یہ بھی معنے ہوں گے کہ اس میں وہ تمام تعلیمات آ گئی ہیں جو مستقل اور ہر زمانہ کے لئے تھیں اور پہلی کتب میں بیان ہو چکی ہیں۔گویا گذشتہ تعلیموں میں سے جس قدر اچھی تعلیمیں تھیں وہ سب کی سب اس میں آ گئی ہیں۔وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا اور( عجیب بات یہ ہے کہ ) جن لوگوں کو ( قرآن مجید جیسی مکمل ) کتاب دی گئی ہے۔۱ وہ اس واضح دلیل مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُؕ۰۰۵ ( یعنی رسول) کے آنے کے بعد ہی ( مختلف گروہوں میں ) تقسیم ہوئے ہیں۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی متفرق نہیں ہوئے مگر اُس وقت جب اُن کے ۱ نوٹ:تفسیر میں اِس آیت کی جو تشریح کی گئی ہے۔اس کے علاوہ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اس سورۃ کی پہلی آیت میں جو یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اہل کتاب اور مشرک کبھی اپنے کفر کو چھوڑ کر توحید پر قائم نہ ہو سکتے تھے جب تک کہ اُن کے پاس آنحضرت صلعم مبعوث ہو کر نہ آجاتے۔اس دعویٰ کی دلیل میں اس آیت کو پیش کیا گیا ہے۔یعنی بتایا گیا ہے کہ دیکھو آنحضرت صلعم کی بعثت کے بعد مشرکین اور اہل کتاب میں سے دو فریق ہو گئے۔ایک گروہ تو اپنے کفر اور شرک کو چھوڑ کر توحید پر قائم ہو گیا اور ایک مخالف راہ اختیار کر کے پہلی حالت پر قائم رہا۔گویا قرآن مجید جس مقصد کے لئے آیا تھا کہ ایک حصہ اہل کتاب اور مشرکین کا اس کے ذریعہ کفر سے نکل آئے وہ واقع ہو گیا۔