تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 540
کے معنے مشرکوں کے لحاظ سے ہیں۔پس دوسرے معنے اس کے اہل کتاب اور مشرکین کی نسبت سے ہیں اور وہ یہ کہ جس طرح اہل کتاب اور مشرکوں کی اصلاح کے لئے یہ کتاب آئی ہے۔اسی طرح اہل کتاب کے لئے اِس میں اُن کی کتب کو پاک و صاف کر کے بیان کیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم جس طرح شرک سے پاک ہے اُس کی مثال دنیا کی اور کسی کتاب میں نہیں پائی جاتی اور یہی اصلاح کا صحیح طریق ہے۔حقیقی اصلاح کبھی بھی دو ٹوک اعلان کے بغیر نہیں ہوا کرتی۔یہ ایک عام فلسفیانہ مسئلہ ہے کہ جب کبھی نقص بڑھ جاتا ہے اس کے لیے ریڈیکل چینجز RADICAL CHANGESیعنی غیر معمولی انقلاب کی ضرورت پیش آتی ہے۔شرک کے خلاف غیر مصالحانہ رنگ جیسا قرآن کریم نے اختیار کیا ہے اور کسی کتاب نے اختیار نہیں کیا۔وہ کوئی لگی لپٹی نہیں رکھتا اسی وجہ سے دوسری سب اقوام شرک کے ازالہ میں ناکام رہی ہیں صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کے ماننے والے ہی شرک سے نہیں بچے بلکہ اُس کی تعلیم کے زور کی وجہ سے اُس کی ہمسایہ قومیں بھی شرک سے نفرت کا اظہار کرنے لگی ہیںعیسائیت کیسا مشرکانہ مذہب ہے لیکن اسلامی تعلیم کے اثر کے نیچے مشرک سے مشرک عیسائی بھی کہتا ہے کہ ہمارے مذہب میں کوئی شرک نہیں پایا جاتا۔وہ اپنے مذہب کو تو نہیں چھوڑتا مگر کم سے کم شرک کا لفظ اب اُسے بھیانک نظر آنے لگ گیا ہے اور وہ اتنا کہنے پر ضرور مجبور ہو گیا ہے کہ ہم مشرک نہیں ہیں۔اسلام ہندوستان میں آیا تو اُس نے بتیس کروڑ دیوتا ماننے والے لوگوں کو برہموئوں اور آریہ سماج کی شکل میں تبدیل کر کے ایک خدا کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا پس حق یہی ہے کہ صُـحُفِ مُطَہَّرَہ ہی اہل کتاب اور مشرکوں کی اصلاح کر سکتے تھے اور یہ اُنہی کا کام تھا کہ ایک طرف سابق نبیوں کی اُمتوں کو ان کی پاک شدہ تعلیم دے کر پاک کر یں اور دوسری طرف غیر مصالحانہ انداز میں توحید کی تعلیم پیش کر کے شرک کو دُور کریں۔پس قرآن کریم کا یہ دعویٰ بالکل سچ ہے کہ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ۔رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً۔ممکن ہی نہیں تھا کہ اہل کتاب اور مشرکین اپنے کفر سے باز آتے یہاں تک کہ ان کے پاس ایک روشن دلیل آ جاتی کیسی روشن دلیل؟ اللہ کی طرف سے آنے والا ایک رسول جو ایک طرف تو اپنے عمل سے خدا تعالیٰ پر ایمان پیدا کرتا اور دوسری طرف ایسے صحیفے پڑھتا جو یہودیوں اور عیسائیوں اور دوسرے اہل کتاب کے سامنے اُن کی مسخ شدہ تعلیموں کو پاک کر کے رکھ دیتے اور تیسری طرف مشرکوں کے مشرکانہ عقیدوں کو سخت حملوں کے ساتھ کچل ڈالتا۔