تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 521

ہے وہ اُسی جنس کی دوسری چیزکو بھی شناخت کر سکتا ہے جو شخص آم کو پہچانتا ہے اُس کے سامنے جب بھی آم رکھا جائے گا فوراً کہہ اٹھے گا کہ یہ آم ہے یا جو شخص خربوزہ پہچانتا ہے اُس کے سامنے جب بھی خربوزہ لایا جائے گا اُسے شناخت میں کوئی دقت واقعہ نہیں ہو گی۔وہ فوراً کہہ دے گا کہ یہ خربوزہ ہے اسی طرح وہ شخص جس نے نبوت کو شناخت کر لیا ہے اس کو کسی نبی کے پہچاننے میں کوئی دقّت ہی پیش نہیں آ سکتی۔نوحؑ آئے گا تو اُس کے متعلق وہ کہے گا کہ میں نے اسے پہچان لیا یہ خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہے ابراہیم ؑ آئے گا تو اس کے متعلق وہ کہے گا کہ میں نے اُسے پہچان لیا یہ خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہے۔موسٰی آئے گا تو اس کے متعلق وہ کہے گا کہ میں نے پہچان لیا یہ خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہے۔عیسٰیؑ آئے گا تو اس کے متعلق وہ کہے گا میں نے اسے پہچان لیا یہ خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے تو ان کے متعلق وہ کہے گا کہ میں نے انہیں پہچان لیا یہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں لیکن اگر اس نے واقعہ میں نوحؑ اور ابراہیمؑ اور موسٰی اور عیسٰیؑ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شناخت نہیں کیا ان کی نبوت کو اس نے نہیں پہچانا اور صرف جھوٹے طور پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے انبیاء علیہم السلام کی نبوت کو پہچانا ہوا ہے تو گو وہ منہ سے اس امر کا دعویدار ہو گا کہ میں نوحؑ کو بھی مانتا ہوں ، ابراہیم ؑکو بھی مانتا ہوں ،موسٰی کو بھی مانتا ہوں ،عیسٰیؑ کو بھی مانتا ہوں مگر جب محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کا جامہ پہن کر اس کے سامنے آ ئیں گے تو کہہ دے گا کہ آپ نعوذ باللہ جھوٹے ہیں اس سے صاف پتہ لگ جائے گا کہ اس کا یہ کہنا کہ میں نوحؑ اور ابراہیمؑ اور موسٰی اور عیسٰیؑ کو پہچانتا ہوں محض جھوٹا اِدّعا تھا ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ وہی جُبّہ جو نوحؑ نے پہنا، وہی جُبّہ جو ابراہیمؑ نے پہنا، وہی جُبّہ جو موسٰی نے پہنا، وہی جُبّہ جوعیسٰیؑ نے پہنا،وہی جُبّہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پہن کر آتے تو وہ آپ کی شناخت سے محروم رہتا؟ اس کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت سے محروم رہنا اس بات کا ثبوت ہو گا کہ وہ پہلے بھی نبوت کی حقیقت کو نہیں سمجھتا تھا اور اُس کا یہ کہنا بالکل دھوکا اور فریب تھا کہ میں نوحؑ کو مانتا ہوں ، میں ابراہیمؑ کو مانتا ہوں میں موسٰی اور عیسٰیؑ کو مانتا ہوں کیونکہ جب ویسی ہی نبوت اُس کے سامنے آئی تو وہ اُس کو پہچان نہ سکا جس سے پتہ لگ گیا کہ اُس نے نہ موسٰی کو پہچانا تھا، نہ عیسٰیؑ کو پہچانا تھا اور نہ دنیا کے کسی اور نبی کو پہچانا تھا۔پس اس آیت نے بتا دیا کہ دنیا میں جب بھی کوئی نبی ظاہر ہوتا ہے وہ لوگوں کو کافر نہیں بناتا بلکہ اُن کے کفر کا صرف اظہار کرتا ہے ورنہ کافر وہ اس سے پہلے ہی بن چکے ہوتے ہیں اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد یہ کتنی فضول بحث بن جاتی ہے کہ فلاں نبی کا انکار کفر ہوتا ہے اور فلاں نبی کا انکار کفر نہیں ہوتا حالانکہ کفر کسی نبی کے انکار کے بعد پیدا نہیں ہوتا بلکہ پہلے ہی لوگوں کے اندر پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔کفر نوحؑ کے انکار کا نام نہیں۔کفر ابراہیم ؑکے انکار کا نام نہیں۔کفرموسٰی کے انکار کا نام نہیں۔کفرعیسٰیؑ