تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 522
کے انکار کا نام نہیں۔بلکہ اصل کفر نام ہے نبوت کے انکار کا۔یہ جو ہم کہہ دیا کرتے ہیں کہ موسٰی اور عیسٰیؑ یا کسی اور نبی کا انکار کفر ہے یہ صرف اصطلاحی طور پر ہم کہا کرتے ہیں۔چونکہ موسٰی نبی ہے اور اُس کا انکار نبوت کے انکار کے مترادف ہے اس لئے موسٰی کا انکار کفر ہے ورنہ موسیٰ آدمی کا انکار کفر نہیں یا عیسیٰ آدمی کاانکار کفر نہیں یا محمدِ عربیؐ کا انکار کفر نہیں۔بلکہ موسٰی نبی کا انکار کفر ہے یا عیسٰیؑ نبی کا انکار کفر ہے یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کفر ہے اور یہ کفر بھی ان معنوں میں نہیں کہ اس نے کسی شخص کا انکار کیا ہے بلکہ اِن معنوں میں ہے کہ اس نے تمام انبیاء کی نبوت سے انکار کیا ہے ورنہ اگر وہ کسی ایک نبی کی نبوت کو بھی صحیح معنوں میں پہچاننے والا ہوتا تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ اس کے سامنے ایک دوسرا شخص وہی نبوت کا جامہ پہن کر آتا تو وہ اس کا انکار کر دیتا اور کہہ دیتا کہ وہ کافر ہے۔جو شخص نبوت کو پہچانتا ہے اس کے سامنے تو جو شخص بھی نبوت کا جامہ پہن کر آئے گا وہ فوراً اس کو پہچان لے گا لیکن جو شخص نبوت کے متعلق جانتا ہی نہیں کہ وہ کیا چیز ہوتی ہے اس کے سامنے جب کوئی شخص نبوت کا جامہ پہن کر آئے گا تو بجائے اس کے کہ وہ اس پر ایمان لائے اسے کافر اور بے دین قرار دینے لگ جائے گا اور اس طرح اس بات کا ثبوت مہیا کر دے گا کہ اس کا پہلے انبیاء کی نبوت پر ایمان لانے کا دعویٰ بھی محض ایک دھوکا تھا۔اگر وہ موسٰی اور عیسٰیؑ کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہی جامہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھتا ہے تو آپ کو کافر کہنے لگ جاتا ہے تو یہ صاف اور واضح ثبوت اس بات کا ہے کہ اُس نے موسٰی اور عیسٰیؑ کی نبوت کو بھی نہیں پہچانا مگر چونکہ اُس کے ماں باپ کہتے تھے کہ موسٰی نبی ہے اس لئے اس نے بھی موسٰی کو مان لیا یا چونکہ اس کے ماں باپ کہتے تھے عیسٰیؑ نبی ہے اِس لئے اُس نے عیسٰیؑ کو بھی مان لیاورنہ درحقیقت نہ وہ موسٰی پر ایمان رکھتا تھا نہ عیسٰیؑ پر ایمان رکھتا تھا اور نہ کسی اور نبی پر ایمان رکھتا تھا۔پس حقیقت یہ ہے کہ نبوت کا انکار کفر ہے نہ کہ زید یا بکر یا خالد کا انکار۔چونکہ آنے والا اسی قسم کا جامہ پہن کر آتا ہے جس قسم کا جامہ پہلے انبیاء پہن کر آئے اس لئے جب لوگ اُس کا انکار کر دیتے ہیں تو اُن کے متعلق یہ نہیں سمجھا جاتا کہ انہوں نے کسی ایک شخص کا انکار کیا بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے نبوت کا انکار کیا ہے۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ حضرت مرزا صاحب کا کوئی نام رکھ لو جو باتیں انہوں نے لوگوں کے سامنے پیش کی ہیں وہ وہی ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے پیش کیں اور جو سلوک لوگوں نے آپ سے کیا وہ ویسا ہی ہے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اور انبیاء سے دنیا نے کیا۔یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس کا پیغامی بھی انکار نہیں کرسکتے۔اور تو اور خود مولوی محمد علی صاحب نے لکھا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت پر منہاجِ نبوت کو