تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 520

یعنی رسول نے اُن کو کافر نہیں بنایا بلکہ بَیِّنَۃ کے آنے سے پہلے ہی وہ کافر بن چکے تھے۔غرض کفر پہلے ہوتا ہے اور نبی بعد میں آتا ہے نبی کا فر گر نہیں ہوتا بلکہ کفر کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے۔جب بھی کوئی نبی دنیا میں آتا ہے اُس کا انکار کرنے کے بعد لوگ کافر نہیں بنتے بلکہ پہلے ہی وہ کافر بن چکے ہوتے ہیں نبی صرف ان کے کفر کا اظہار کرتا ہے پس یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ نبی کا انکار کر کے لوگ کافر بنتے ہیں یہ ایک غیر محتاط کام ہے جسے ہم بھی زبان کے عام محاورہ کے مطابق بعض دفعہ استعمال کر لیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی عام رواج کے مطابق اس کو استعمال کیا ہے مگر حقیقتاً نہ ہمارا یہ مفہوم ہوتا ہے نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مفہوم تھا کہ نبی کافر بناتا ہے بلکہ ہمارا مفہوم بھی یہ ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی مفہوم یہی ہوتا ہے کہ نبی لوگوں کے کفر کا اظہار کرتا ہے گو عرف عام کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ نبی کا انکار کر کے لوگ کافر بنتے ہیں بہر حال حقیقت یہ ہے کہ نبی کافر نہیں بناتا نبی کا انکار کر کے لوگ کافر نہیں ہوتے بلکہ نبی کے انکار سے ان کا کفر ظاہر ہو جاتا ہے اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک شخص جس نے کبھی خربوزہ نہیں دیکھا یہ کہے کہ میں نے خربوزہ کھایا ہے۔اب جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے یہ ایک واضح امر ہو گا کہ اُس نے جھوٹ سے کام لیا ہے مگر اس کا یہ جھوٹ اس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتا جب تک ہم خربوزہ اس کے سامنے لا کر نہ رکھ دیں اور پھر اس سے پوچھ نہ لیں کہ بتائو یہ کیا چیز ہے؟ اگر ہم ایک خربوزہ اس کے سامنے لا کر رکھ دیتے ہیں اورپھر اس سے پوچھتے ہیں کہ بتائو یہ کیا چیز ہے اور وہ جواب میں کہتا ہے کہ مجھے علم نہیں تو یہ اس بات کا ایک واضح ثبوت ہو گا کہ جب اس نے کہا تھا کہ میں نے خربوزہ کھایا ہے تواس نے جھوٹ اور کذب بیانی سے کام لیا تھا مگر اس کے جھوٹ بولنے کے باوجود اور پھر خربوزہ کے آنے پر اُس کا جھوٹ ظاہر ہونے کے باوجود دنیا میں یہ کبھی نہیں کہا جائے گا کہ خربوزے نے اس کو جھوٹا بنایا ہے خربوزے نے اس کو جھوٹا نہیں بنایا بلکہ خربوزے نے اس کے جھوٹ کو آکر ظاہر کیا ہے ورنہ جھوٹا تو وہ پہلے ہی تھا۔اسی طرح لوگ کہتے ہیں ہم موسٰی کو مانتے ہیں لوگ کہتے ہیں عیسٰیؑ کو مانتے ہیں اور جب وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم موسٰی اور عیسٰیؑ کو مانتے ہیں تو اس سے ان کی کیا مراد ہوتی ہے؟ یہ مراد تو نہیں ہوتی کہ موسٰی اور عیسٰیؑ آدمی تھے یہ تو ہر شخص جانتا ہے کہ وہ آدمی تھے پس ان کا یہ کہنا کہ ہم موسٰی اور عیسٰیؑ کو مانتے ہیں اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ ہم مانتے ہیں کہ موسٰی ایک آدمی تھا یا ہم مانتے ہیں کہ عیسٰیؑ ایک آدمی تھا بلکہ ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ موسٰی نبی کی نبوت کو ہم شناخت کرتے ہیں عیسٰیؑ نبی کی نبوت کو ہم شناخت کرتے ہیں اور جب وہ انبیاء کی نبوت کو شناخت کرنے کا ملکہ اپنے اندر رکھتے ہیں تو یہ لازمی بات ہے کہ جب بھی کوئی نبی دنیا میں ظاہر ہو گا وہ اس کو فوراً پہچان لیں گے کیونکہ جو شخص ایک جنس کی کسی چیز کو شناخت کرنے کا ملکہ رکھتا