تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 519
مِنَ الْاَوْثَانِ ( الحج:۳۱) اس کے یہ معنے نہیں کہ کچھ بُت پاکیزہ ہوتے ہیں اور کچھ گندے بلکہ مطلب یہ ہے کہ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ اَیِ الْاَوْثَانِ تم گندگی یعنی بتوں کی پرستش اور ان کی عبادت سے بچو۔یہاں بھی مِنْ بیانیہ ہی استعمال ہوا ہے اور چونکہ یہ حال ہے اس لئے اگر ہم عربی میں اس آیت کاترجمہ کریں تو یوں ہو گا کہ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حَالَ کَوْنِـھِمْ مُشْتَمِلِیْنَ عَلٰى جَـمِیْعِ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ جَـمِیْعِ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ۔چنانچہ دوسری قرأت اِن معنوں کو اور زیادہ واضح کر دیتی ہے اور وہ قرأت عبد اللہ بن مسعود کی ہے اُن کی قرأت یہ ہےلَمْ يَكُنْ اَهْلُ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكُوْنَ مُنْفَكِّيْنَ ( فتح البیان زیر آیت لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ) پس علاوہ اس کے کہ خود فقرہ کی بناوٹ اور وَالْمُشْرِکِیْنَ کے الفاظ جن کا عطف اہل کتاب پر ہے۔اس حقیقت کو واضح کر رہے ہیں کہ یہاں مِنْ بعضیہ نہیں ہو سکتا ابن مسعودؓ کی قرأت نے مزید تصدیق کر دی کہ یہاں کسی صورت میں بھی مِنْ کو بعضیہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔نبی کافر گر نہیں ہوتا بلکہ کفر کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے دوسری بات جو نہایت اہم اور موجودہ زمانہ کے جھگڑوںمیں بہت کام آنے والی ہے اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ کُفر پہلے ہوتا ہے اور نبی بعد میں آتا ہے۔یہ بات ایسی واضح ہے کہ اس آیت پرذرا سا غور بھی انسان پر اس حقیقت کو روشن کر دیتا ہے کہ نبی پیچھے آتا ہے اور کفر پہلے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ کفار خواہ اہل کتاب ہوں یا مشرک کبھی بھی اپنے کفر کو چھوڑ نہیں سکتے تھے جب تک اُن کے پاس بیّنہ نہ آجاتی۔مِنْ کو بیانیہ تسلیم کرنے کی صورت میں ’’ خواہ‘‘ کا لفظ گو اُس کے معنوں کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتا مگر چونکہ اُردو میں’’ خواہ‘‘ کا لفظ اُس مضمون کو قریب الفہم کر دیتا ہے جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے اس لئے آیت کا ترجمہ یہ ہو گا کہ کفار خواہ اہل کتاب میں سے ہوں اور خواہ مشرکوں میں سے ، کبھی بھی اپنے کفر کو چھوڑ نہیں سکتے تھے جب تک اُن کے پاس بیّنہ نہ آتی۔’’ جب تک ‘‘ کے الفاظ جب کسی فقرہ میں استعمال کئے جائیں تو اُس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ’’جب تک‘‘ سے پہلے بیان شدہ چیز ’’جب تک‘‘ کے بعد بیان ہونے والی شے سے پہلے ہے یا اُس کا اِس سے پہلے ہونا ضروری ہے۔مثلاً یہ کہا جائے کہ وہ شخص اپنے گھر سے نہیں نکل سکتا تھا جب تک میرا پیغام اُس کے پاس نہ پہنچ جائے۔تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پیغام پیچھے جائے گا اوروہ گھر میں پہلے بیٹھا ہوا ہو گا۔اسی طرح لَمْ یَکُنْ اور حَتّٰى کے الفاظ جب کسی فقرہ میں استعمال ہوں گے تو اُس کے معنے یہ ہوں گے کہ لَمْ یَکُنْ میں بیان شدہ بات حَتّٰى سے پہلے واقع ہو چکی ہے۔اس سے صاف پتہ لگا کہ بَیِّنَۃ کے آنے سے پہلے وہ لوگ کافرہو چکے تھے۔بَیِّنَۃ