تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 518

بالبداہت باطل ہیں کہ اہل کتاب پر وَ الْمُشْرِكِيْنَ کا عطف ہے۔اگر تو یہ ہوتا کہ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكُوْنَ تو پھر سمجھا جا سکتا تھا کہ مِنْ صرف اہل کتاب کے ساتھ لگتا ہے مشرکوںکے ساتھ نہیں لگتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے وَ الْمُشْرِكُوْنَ کی بجائےوَ الْمُشْرِكِيْنَ فرمایا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ جو حکم اہل کتاب کے لئے ہے وہی حکم مشرکوں کے لئے بھی ہے پس اگر اس آیت کے یہ معنے لئے جائیں کہ اہل کتاب میں سے جو ایمان نہیں لائے اُن میں سے بھی کچھ مومن ہیں اور کچھ کافر تو پھر اس کے ساتھ ہی یہ بھی معنے کرنے پڑیں گے کہ مشرک جو اب تک ایمان نہیں لائے اُن میں سے بھی کچھ مومن ہیں اور کچھ کافر۔اور آیت کو یُوں سمجھنا پڑے گا کہ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُشْتَمِلِیْنَ عَلٰى بَعْضِ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَبَعْضِ الْمُشْرِکِیْنَ اور یہ بات بالبداہت غلط ہے۔عیسائی بھی باوجود شدید دشمنِ اسلام ہونے کے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم کے رُو سے سب غیر اہل کتاب مشرک کافر ہیں اور اس میں کوئی استثنٰی نہیں۔بہرحال اگر اس آیت میں مِنْ کو بعضیہ قرار دیاجائے تو چونکہ وَ الْمُشْرِكِيْنَ کا عطف اہل کتاب پر ہے اس لئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کچھ مشرک مومن ہیں اور کچھ مشرک کافر۔حالانکہ یہ بالبداہت باطل ہے۔پس یہ غلط ہے کہ اس آیت میں مِنْ بعضیہ استعمال ہوا ہے۔یہاں مِنْ بعضیہ نہیں بلکہ بیانیہ ہے اور اس آیت کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُشْتَمِلِیْنَ عَلٰى اَھْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ چونکہ مشرکین مجرور ہے اس لئے مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ کے سوا کسی اور پر اس کا عطف نہیں ہو سکتا اگر اَلَّذِیْنَ پر عطف ہوتا تو یہ مر فوع ہوتا پس کسی صورت میں بھی یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ بعض اہل کتاب کافر ہیں اور بعض نہیں۔بلکہ لازماً اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ کفار خواہ اہل کتاب ہوں یا مشرک سب کے سب کافر ہیں اور اس کفر سے بچ نہیں سکتے تھے جب تک کہ رسول اُن کے پاس نہ آتا۔غرض کَفَرُوْا سے مراد اہل کتاب اور مشرکین دونوں ہیں اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں قرآن کریم کا یہ محاورہ ہے کہ جب وہ اہل کتاب اور مشرکین کا ذکر کرتا ہے تو اُس سے مراد ساری غیر مسلم دنیا ہو تی ہے کیونکہ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے مسلمانوں کے سوا دنیا میں دو ہی گروہ ہو سکتے ہیں یا اہل کتاب ہوں گے یا مشرک ہوں گے۔پس اہل کتاب اور مشرکین سے مراد قرآنی محاورہ کے مطابق تمام غیر مسلم دنیا ہے اور آیت کے معنے یہ ہیں کہ کفار میں سے یعنی غیر مسلموں میں سے خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا مشرک (اس میں کوئی استثنٰی نہیں) اپنے کفر سے اُس وقت تک نہیں نکل سکتے تھے جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نہ ہوتی۔قرآن کریم میں بعض اور مقامات پر بھی مِنْ بیانیہ استعمال ہوا ہے مثلاً ایک جگہ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ