تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 517

اور زیادہ اعتراضات نہ کرنے لگیں۔بہر حال اس آیت میں ان دونوں خیالات کا ردّ کیا گیا ہے اور واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ماننا اہل کتاب اور مشرکین دونوں کے لئے ضروری ہے کیونکہ فرماتا ہے لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ۔کافروں کے لئے یہ ممکن ہی نہ تھا خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا مشرک کہ وہ اپنے کفر سے الگ ہو سکتے تا وقتیکہ اُن کے پاس بیّنہ نہ آ جاتی۔اس آیت میں لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کافروں اور مشرک کافروں کے لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ اپنے کفر کو چھوڑ سکتے۔اِنَفَکَّ کے معنے جیسا کہ حل لغات میں بتایا گیا ہے جُدا ہونے کے ہیں۔پس مُنْفَكِّيْنَ کے معنے ہوئے جدا ہونے والے یا الگ ہونے والے۔سوال یہ ہے کہ اُن کے لیے کس چیز سے انفکاک نا ممکن تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اسی کفر سے جس کا اس آیت میں ذکر آتا ہے یعنی اہل کتاب کافر اور مشرک کافر کفر کو چھوڑ ہی نہیں سکتے تھے اور کوئی صورت ایسی نہیں تھی کہ وہ کفر سے آزاد ہو سکتے سوائے اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بغیر نہ اہل کتاب کفر سے نکل سکتے تھے نہ مشرک کفر سے نکل سکتے تھے۔گویا اہل کتاب اور مشرکین دونوں کے متعلق صراحتاً ، وضاحتاً اور دلالۃً بتا دیا کہ وہ کافر ہیں اور یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد وہی شخص خدا تعالیٰ کا مقبول ہو سکتا ہے یا وہی شخص سچے دین پر قائم سمجھا جا سکتا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔اس آیت میں مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ کے الفاظ آتے ہیں اور مِنْ کے اصل معنے ابتدائے غایت کے سمجھے جاتے ہیں لیکن چونکہ کثرت سے مِنْ بعضیہ بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے ممکن ہے یہ شبہ کسی شخص کے دل میں پیدا ہو کہ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ میں بھی مِنْ بعضیہ ہی استعمال ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکوں میں سے کافروں کا گروہ گویا ہر اہل کتاب کے متعلق یہ بیان نہیں کیا گیا کہ وہ کافر ہے بلکہ یہ آیت صرف بعض اہل کتاب کی نسبت ہے جو کافر تھے ہر اک اہل کتاب کافر نہیں تھا۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اگر اس کا مفہوم یہ لیا جائے کہ اہل کتاب میں سے جنہوں نے اب تک اسلام قبول نہیں کیا یا مشرکوں میں سے جنہوں نے اب تک اسلام قبول نہیںکیا تو یہ درست ہے ہم بھی اس قسم کے بعض کو ماننے کے لئے تیار ہیں یعنی جو اب تک اہل کتاب ایمان نہیں لائے وہ کافر ہیں یا جواب تک مشرک ایمان نہیں لائے وہ کافر ہیں۔لیکن اگر مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ کے یہ معنے لئے جائیں کہ جو اہل کتاب مسلمان نہیں ہوئے اُن میں سے کچھ کافر ہیں اور کچھ نہیں تو یہ اس لئے