تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 516

یعنی نہ ماننے والا بھی ہے اور دوزخی بھی ہے۔افسوس کہ اس نکتہ کو نہ سمجھ کر آج کل پیغامی گمراہ ہو رہے ہیں اور جب وہ مجھ پر حملہ کرتے ہیں تو دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ کفر و سزاء کا یہ فرق خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور متعدد احادیث میں کفر اورجہنمی ہونے کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ پیغامیوں کے لئے دو ہی راستے کھلے ہیں۔یا تو وہ یہ کہیں کہ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں سنا وہ کافر نہیں مسلمان ہے۔اگر وہ یہ کہہ دیںتو ہمارا اور ان کا جھگڑا ختم ہوجاتا ہے ہم بھی ان کی اصطلاح میں کہہ دیں گے کہ جس شخص نے حضرت مرزا صاحب کا نام نہیں سُنا وہ کافر نہیں مسلمان ہے۔اس صورت میں وہ ایک نئی اصطلاح قائم کر دیں گے اور ہمارا اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا کہ ہم اُن سے خطاب کے وقت شر کو دُور کرنے کے لئے اس اصطلاح کو اُن کے مقابلہ میں تسلیم کر لیں اور یا پھر دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ یہ کہیں کہ کافر و قابلِ سزا لازم و ملزوم نہیں ایک گروہ کو کافر تو کہا جائے گا مگر قابلِ سزا نہیں۔اس صورت میں بھی ہمارا اور اُن کا جھگڑا ختم ہو جاتا ہے۔اس تمہید کے بعد میں بتاتا ہوں کہ آیت زیر تفسیر میں اُن لوگوں کا جو اہل کتاب کو کافر قرار نہیں دیتے یا جو سمجھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا قرآن کریم کے رُو سے اہل کتاب کے لئے ضروری نہ تھا، ردّہے۔اور صاف بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ماننا اہلِ کتاب اور مشرکین دونوں کے لئے ضروری تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب اور مشرکین دونوں کو کافر قرار دیتا ہے اور اسلام (یعنی دینِ حق قبول کرنا) صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے پر موقوف ظاہر کرتا ہے۔یہ جو میں نے کہا ہے کہ اس آیت میں اُن لوگوںکا ردّ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا قرآن کریم کے رُو سے اہلِ کتاب کے لئے ضروری نہ تھا۔اس فقرہ میں ان لوگوں سے میری مراد عیسائی مؤرخ ہیں۔اس اعتراض سے اُن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ قرآن کریم کی عدم ضرورت کو واضح کریں اور ثابت کریں کہ قرآن کریم ایسی کتاب نہیں ہے جس پر ایمان لانا اہل کتاب کے لئے بھی ضروری ہو اُن کے لئے تورات اور انجیل پر ایمان رکھنا ہی کافی ہے۔اور یہ جو میں نے کہا ہے کہ اِس آیت میں اُن لوگوں کا بھی ردّ ہے جو اہل کتاب کو کافر قرار نہیں دیتے یہ بعض معتزلیوں کا خیال ہے جو اہل کتاب کو ایک تیسرا گروہ قرار دیتے ہیں۔اسی طرح یوروپین مستشرقین کے اعتراضات سے ڈر کر نیچری خیالات رکھنے والے مسلمان بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ اہلِ کتاب کو قرآن کریم نے کہیں کافر نہیں کہا اِس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ کہیں عیسائی چِڑ نہ جائیں اور وہ اسلام پر