تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 471
نہیں لیتا۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں سے بھی ایک نیا عہد باندھا اور اس کی علامت رمضان کے روزے مقرر فرمائے۔اس عہد کے مقابل پر مسلمانوں سے بھی ایک عہد اللہ تعالیٰ نے باندھا اور اس عہد کا اعلان رمضان کے مہینہ میں ہوا۔اس عہد کی علامت ختنہ کو نہیں مقرر کیا گیا کیونکہ ختنہ تو عرب پہلے ہی ابراہیم کی یاد میں کرتے چلے آتے تھے۔بلکہ اس عہد کی علامت مومنوں کے لئے یہ مقرر کی گئی کہ وہ اس سارے مہینہ کے روزے رکھیں جس میں خدا تعالیٰ نے ان سے عہد باندھا تھا اس کے مقابل پر اللہ تعالیٰ نے بھی اس عہد کے نباہنے کی ایک علامت اپنے لئے مقرر فرمائی اور وہ یہ کہ جب تم رمضان کا مہینہ اس عہد کی یاد میں روزوں میں گزارو گے تو میں اس کے جواب میں رمضان کی آخری راتوں میں سے ایک رات تمہارے لئے آسمان سے اتروں گا۔اور اعلان کروں گا کہ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ ( البقرۃ:۱۸۷) یعنی بندوں کی طرف سے جب اس عہد کی یادگار رمضان کی صورت میں منائی جائے گی تو میں بھی اس عہد کی یادگار لیلۃ القدر کی صورت میں منائوں گا۔آسمان سے اپنے بندوں کے لئے اتروں گا اور اعلان کروں گا کہ مانگو تو تمہیں دیا جائے گا، ایمان لائو تو تمہیں ہدایت بخشی جائے گی کیونکہ تم میرے معاہد ہو۔تم نے اپنے عہد کی رمضان سے یاد تازہ کی، میں اپنے عہد کی لیلۃ القدر سے یاد تازہ کرتاہوں۔یہ کیسی مبارک علامت ہے۔ختنہ بھی اچھی چیز ہے لیکن ایک مہینہ بھر خدا تعالیٰ کے لئے روزے رکھنے یہ اس علامت کی نسبت کس قدر زیادہ شاندار اور کس قدر زیادہ روحانیت کو زندہ کرنے والی علامت ہے۔اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ کا جواب بھی کیسا شاندار ہے۔روپیہ نہیں، چاندی نہیں، ملک نہیں، دولت نہیں، وہ اپنے عہد کی یادگا رکے طور پر مسلمانوں سے لیلۃ القدر جیسی چیز کا وعدہ کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ جب تم میرے آخری کلام کے نازل ہونے کی خوشی میں ہمیشہ رمضان کے مہینہ کے روزے رکھا کرو گے اور اس طرح اپنے عہد کو تازہ کرتے رہوگے تو میں بھی تم سے لیلۃ القدر کے ذریعہ سے اپنا عہد تازہ کرتا رہوں گا۔یعنی اس دن تم پر خاص فضل کیا کروں گا اور تمہاری دعائیں سنا کروں گا، تم کو نیا اور زندہ ایمان بخشا کروں گا تا تم کو معلوم ہوتا رہے کہ میں زندہ خدا ہوں اور اپنے عہد کی نگہداشت میں تم سے پیچھے نہیں بلکہ تم سے زیادہ اپنے عہد کی نگہداشت کرنے والا ہوں۔یہ دونوں نشان باہمی عہد کے تازہ رکھنے کے کیسے شاندار ہیں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے عہد کا نشان روحانی مقرر کیا جبکہ بنو اسحاق کے لئے عہد کا نشان جسمانی یعنی ختنہ تھا اور خدا تعالیٰ نے اپنے لئے بھی مسلمانوں سے کئے ہوئے عہد کا نشان روحانی مقرر کیا یعنی لیلۃ القدر۔جبکہ بنو اسحاق کے عہد کے مقابل میں خدا تعالیٰ نے اپنے عہد