تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 470

تازہ ہونے شروع ہو تے ہیںاور اس کے ساتھ یہ احساس مل کر کہ اب وہ باتیں پھر نہیں ہو سکتیں اس کے دل کی کیفیت عجیب قسم کی ہوجاتی ہے حالانکہ اس عزیز کی موت کوئی نیا واقعہ نہیں ہوتا اور نہ گذشتہ واقعات کوئی نیا علم پیدا کرتے ہیں مگر وہی پرانی قبراور پرانے واقعات قبر کو دیکھ کر مردہ جذبات کو زندہ کر دیتے ہیں اور سوئے ہوئے احساسات کو جگا دیتے ہیں۔اسی طرح لوگ پیدائش کے دن مناتے ہیں ،شادی کے دن مناتے ہیں اس لئے کہ گو شادی اور پیدائش کا علم تو ہر روز ہی ہوتا ہے خاص دنوں میں ان کا علم نیا نہیں پیدا ہوتا لیکن انتقال خیالات کا بہترین موقعہ وہی دن پیدا کرتا ہے جس دن کوئی پیدا ہوا ہوتا ہے یا جس دن ایک جوڑے کی شادی ہوئی ہوتی ہے۔مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ کا ایک عہد اور اس عہد کی یاد میں لیلۃ القدر کا قیام اسی حکمت کو مد نظر رکھتے ہوئے رمضان کے مہینہ میں جس میں قرآن کریم جیسی اہم اور ہدایت دینے والی کتاب نازل ہونی شروع ہوئی تھی۔اگر ایک رات اس کی یاد تازہ کرنے کے لئے مقرر ہو جائے اور اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے کہ چونکہ اس مہینہ میں ہم نے بنی نوع انسان سے ایک نیا عہد باندھا تھا دائمی اور نہ فراموش ہونے والا عہد۔اس لئے مومنوں کے دلوں میں اس کی یاد تازہ رکھنے کے لئے اور اس بات کا ثبوت مہیا کرنے کے لئے کہ ہم اب تک اس عہدپر قائم ہیں ہم اس مہینہ کی ایک رات کو دعائوں کی قبولیت کے لحاظ سے خاص فضیلت اور برتری بخشتے ہیں تو اس میں کیا حرج کی بات ہے یہ تو عین صواب ہے۔خدا تعالیٰ نے ابراہیمؑ سے ایک عہد باندھا اور اس کی ظاہری علامت کے طور پر ختنہ مقرر فرمایا(پیدائش باب ۱۷ آیت ۱۰)۔صرف ایک جسمانی علامت جس سے روحانیت کا کوئی بھی تعلق نہیں۔ایک حفظان صحت کا اصول، ایک بدنی صفائی کا نشان۔یہود نے اسے قائم رکھا مگر مسیحیوںنے اسے بھلادیا۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر نسل ابراہیم اس عہد کو ختنہ کے ذریعہ سے دہراتی چلی آئی ہے تو خدا تعالیٰ نے اپنے عہد کو کس طرح دہرایا؟ تورات اس پر بالکل خاموش ہے۔فرض کرلو کہ خدا تعالیٰ کا عہد یہ تھا کہ کنعان کا ملک ہمیشہ بنو ابراہیمؑ کے پاس رہے گا تو یہ بھی تو نہ ہوا۔کیونکہ بائبل کے ماننے والوں کے نزدیک ابراہیمی وعدوں کے حقدار صرف بنو اسحاق تھے(پیدائش باب ۱۷ آیت ۱۹تا۲۱)۔مگر بنواسحاق تو تیرہ سو سال سے اس ملک کی حکومت سے محروم ہیں۔آخر خدا تعالیٰ نے اپنا عہد کیوں بھلادیا۔مسیحیوں نے بے شک ختنہ چھوڑ دیا لیکن یہود نے تو ختنہ نہیں چھوڑا تھا ان کو کیوں اللہ تعالیٰ نے بھلادیا۔عہد کے زندہ اور قائم ہونے کی تو یہی علامت ہوسکتی ہے کہ دونوں طرف سے اس کے قائم ہونے کا اعلان ہوتا رہے۔مگر بائبل کے عہد کا تو یہ حال ہے کہ یہود اب تک ختنہ کرتے چلے آتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ اس باہمی عہد کے اپنے حصہ کو ادا کرنے کا نام