تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 472

کی نشانی جسمانی مقرر کی تھی۔یعنی فلسطین کا یہود کے قبضہ میں رہنا۔ساری عمر ایک ماہ کے روزے رکھنے کے مقابلہ میں ختنہ کا فعل کتنا چھوٹا ہے (پھر وہ فعل بھی مسلمان ابراہیم علیہ السلام کی یادگار کے طور پرکرتے چلے آتے ہیں) اور کنعان کی زمین لیلۃ القدر کے مقابلہ پر کتنی حقیر ہے۔بلکہ وہ تو لیلۃ القدر کے ایک ایک سیکنڈ کے مقابل پر حقیر ہے (اور پھر لطف یہ کہ وہ زمین بھی اور پیشگوئیوں کے مطابق مسلمانوں ہی کو مل گئی ہے)۔خلاصہ یہ کہ رمضان اور لیلۃ القدر محمدی عہد کی علامات ہیں اسی طرح جس طرح ختنہ اور فلسطین کی بادشاہت ابراہیمی عہد کی علامات ہیں۔رمضان بندہ کی طرف سے عہد کو تازہ رکھنے کا نشان ہے اور لیلۃ القدر خدا تعالیٰ کی طرف سےعہد کو تازہ رکھنے کا نشان ہے اور ہر عقلمند انسان ادنیٰ تدبر سے معلوم کر سکتا ہے کہ مسلمانوں سے جو عہد خدا تعالیٰ نے باندھا ہے اس کے نشان بہت شاندار ہیں اور روحانی ہیں اور زندہ خدا کی قدرتوں کا اظہار کرتے ہیں۔کئی قومیں اپنے ملکوں میں ہزاروں سال سے بیٹھی ہیں اور یہ اس بات کی لازمی علامت نہیں کہ خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہے مگر کسی قوم کو اگر لیلۃالقدر مل جائے ایسی رات جس میں خدا تعالیٰ قریب آجائے جس میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنے۔جس میں اللہ تعالیٰ علیٰ قدر مراتب اپنے بندوں پر اپنی مرضی ظاہر کرے تو یہ یقیناً اس بات کا روشن ثبوت ہو گا کہ خدا تعالیٰ اس قوم سے خوش ہے اور اس سے اپنے عہد کو اس نے بھلایا نہیں۔حضرت اسحاق کی اولاد سے عہد کے مقابل حضرت اسماعیل کی اولاد سے اللہ تعالیٰ کا عہد ایک اور بات بھی اسی سلسلہ میں یاد رکھنے والی ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے ابراہیمؑ سے ان کے دونوں بیٹوں کی نسبت عہد کیا تھا اور دونوں کو ختنہ کا پابند کیا تھا(پیدائش باب۱۷آیت۲۵۔پیدائش باب ۲۱آیت۴)۔بائبل کہتی ہے کہ اسحاقؑ کی اولاد کی نسبت اس نے کہا کہ میں کنعان کا ملک ہمیشہ کے لئے انہیں دوں گا۔چنانچہ لکھا ہے ’’تب خدا تعالیٰ نے کہا کہ بے شک تیری جورو سرہ تیرے لئے ایک بیٹا جنے گی تو اس کا نام اسحاق رکھنا اور میں اس سے اور بعد اس کے اس کی اولاد سے اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد ہے قائم کروں گا ‘‘ (پیدائش باب۱۷ آیت۱۹) اس جگہ عہد کے قیام سے مراد کنعان کے ملک پر دائمی قبضہ لیا جاتا ہے اور بائبل کے کئی مقامات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے(پیدائش باب۱۷ آیت۷،۸) لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عہد بنو اسمٰعیل کے بارہ میں بھی تھا کیونکہ ختنہ کا حکم انہیں بھی دیا گیا تھا اور برکت کا وعدہ ان سے بھی تھا۔چنانچہ لکھا ہے ’’جب اس کے بیٹے اسمٰعیل کا ختنہ ہوا وہ تیرہ برس کا تھا ‘‘ (پیدا ئش باب ۱۷آیت۲۵) نیز لکھا ہے ابراہیم نے دعاکی’’اسمٰعیل تیرے حضور جیتا رہے‘‘ (پیدائش باب ۱۷ آیت۱۸) اس کے بعد لکھا ہے ’’اور اسمٰعیل کے حق میں میں نے تیری سنی دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند