تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 469

قربانیوں کو دیکھ کر احتیاط کرنے لگ جاتے ہیں)اس مہینہ میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینہ سے بہتر ہے جو رمضان میں بھی اس رات کی برکات سے محروم رہے وہ بڑا محروم آدمی ہے۔نسائی نے بھی ابوایوب انصاریؓ سے اسی مضمون کی روایت نقل کی ہے بخاری اور مسلم میں ابوہریرہ سے روایت ہے اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْـمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ( بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر باب فضل لیلۃ القدر) یعنی جو شخص لیلۃالقدر کو خوب جاگے اور عبادت کرے اور یہ اس کی عبادت رسماً یا ریا کے طور پر نہ ہو بلکہ ایمان اور خدا تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے ہو تو اس کے وہ سب گناہ جو وہ پہلے کر چکا ہے معاف ہو جاتے ہیں۔ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی ایک رات کا نام لیلۃالقدر رکھا ہے اور اس کی نسبت ایسی صفات بیان فرمائی ہیں جو قرآن کریم کی بیان کردہ لیلۃالقدر سے ملتی ہیں۔مثلا ًاس کا ہزار مہینوں سے اچھا ہونا یا گناہوں کی بخشش کی صورت میں سلامتی لانا۔یہ تشابہ ضرور اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ اس سورۃ میں جس لیلۃالقدر کا ذکر ہے اسی کا ذکر احادیث میں ہے یا کم سے کم یہ کہ اس لیلۃالقدر کی طرف بھی اس سورۃ میں اشارہ ہے۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ عقل اور انصاف کے مطابق ہے کہ ایک رات کو جو دوسری راتوں کی طرح کی ایک رات ہے ایسی برکات کا موجب سمجھ لیا جائے اور کیا یہ انصاف کی بات ہے کہ اس ایک رات میں عبادت کرنے والا سب گذشتہ گناہوں سے نجات پا جائے۔کیا اس سے نیک اعمال سے استغنا ء پیدا نہیں ہوتا ؟ اس شبہ کا یہ جواب ہے کہ اگر صرف یہ کہہ دیا جائے کہ فلاں رات میں عبادت کرلو تما م گناہ بخشے جائیں گے تو یہ بات ضرور خلاف عقل اور قوم میں وہم پیدا کرنے والی ہے۔لیکن لیلۃالقدر کے ساتھ جو شرائط اور جو امور وابستہ ہیں ان کے ہوتے ہوئے یہ شبہ درست نہیں رہتا۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے بلکہ انسانی دماغ کی اہم خصوصیتوں میں سے ہے کہ خیالات کا انتقال Association of ideasانسانی اعمال پر ایک نہایت ہی گہرا اثر رکھتا ہے۔ایک انسان اپنے عزیز کی قبر پر جاتا ہے تو گو اس کے سامنے صرف ایک مٹی کا ڈھیر ہوتا ہے مگر اس پر رقت طاری ہوجاتی ہے کیونکہ قبر اسے اپنے عزیز کی یاد دلاتی ہے اور اس یاد کے ساتھ ہی حافظہ ان تعلقات کو سامنے لا کھڑا کرتا ہے جو اس مرحوم کی زندگی میں اس کے اور اس عزیز کے درمیان تھے ایک ایک کر کے واقعات اس کے حافظہ میں