تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 468
میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل بروزوں کی طرف اشارہ ہے۔لیکن چونکہ ناقص بروز بھی بروز ہی ہوتا ہے اس لئے یہ آیت ناقص بروزوں کے متعلق بھی اشارہ کرتی ہے یعنی ایسے زمانہ کے مصلحین کی نسبت بھی جبکہ کامل تاریکی تو نہیں آئے گی لیکن ایک نئی زندگی کی ضرورت انسان کو محسوس ہو گی۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ہر صدی کے سر پر دنیا کو ایک ہوشیار کرنے والے کی ضرورت پیش آجاتی ہے اور اسلام میں اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر مجددبھیجتا رہے گا(ابی داؤد، کتاب الملاحـم باب ما یذکر فی قرن المائۃ)۔ان مجددوں کے متعلق بھی ا س آیت میں پیشگوئی موجود ہے کیونکہ وہ بھی جزوی طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام ہوتے ہیں اور ایک جزوی تاریک رات میں ان کا ظہور ہوتا ہے۔اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ کے یہ معنے کہ قرآن کریم لیلۃ القدر کے بارہ میں نازل ہوا ہے پانچویں معنے ا س آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم لیلۃالقدر کی بزرگی میں نازل فرمایا ہے۔ان معنوں کے رو سے فِیْ کے معنے متعلق کے ہوں گے۔یعنی یہ معنے نہیں ہوں گے کہ لیلۃالقدر میں قرآن نازل ہوا ہے بلکہ یہ معنے ہوں گے کہ لیلۃ القدر کے بارہ میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔بالعموم مفسرین نے یہی معنے لئے ہیں اور وہ اس آیت کے یہ معنے کرتے ہیں کہ قرآن کریم اس لیلۃالقدر کی جو رمضان کے آخر میں آتی ہے۔بڑائی اور بزرگی بیان کرتا ہے(فتح البیان زیر آیت شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ)۔اگر آیت کے یہ معنے کئے جائیں تو سوال پیدا ہوگا کہ وہ لیلۃالقد ر جس کی طرف اس سورۃ میں توجہ دلائی گئی ہے کیا چیز ہے؟مفسرین کا خیال ہے کہ لیلۃالقدر سے مراد اس جگہ پر رمضان کی راتوں میں سے وہ رات ہے جس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں متعدد جگہ پر ذکر آتا ہے۔امام احمد بن حنبل اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ لَمَّا حَضَـرَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَکُمْ شَھْرُ رَمَضَانَ شَھْرٌ مُّبَارَکٌ اِفْتَـرَضَ اللہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہٗ تُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْـجَنَّۃِ وَتُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْـجَحِیْمِ وَقُفِّلَ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ مَنْ حُرِمَ خَیْـرُھَا فِیْہِ فَقَدْ حُرِمَ (مسند احمد بن حنبل مسند ابو ہریرۃ) یعنی اے لوگو رمضان کا مہینہ آگیا ہے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر اس مہینہ کے روزے فرض کئے ہیں۔اس مہینہ میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں (یعنی نیکیوں کی زیادتی ہو جاتی ہے اور مومن روزوں کے اثر کی وجہ سے گناہوں سے بہت اجتناب کرنے لگتے ہیں)اور شیطانوں کو اس مہینہ میں بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں (یعنی جو مسلمان بدیوں کے ارتکاب کے عادی ہو جاتے ہیں وہ بھی اپنے بھائیوں کی