تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 467

ہوںگے۔یعنی ایسا زمانہ کوئی نہ آئے گا کہ دنیا میں خرا بی ہواور قرآن اور محمد رسول اللہ صلعم اس کی ہدا یت کا موجب نہ ہو سکیں اور کسی نئی شریعت کی ضرورت پیش آجائے بلکہ جب کبھی قرآن کا نور دنیا سے مٹنے لگے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی پر پردہ پڑ جائے گا خدا تعالیٰ دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مثیل روحانی وجودوں کو دنیا میں مبعوث فرمائے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو بھی ظاہر کریں گے اور قرآن کریم کی تعلیم کو بھی دوبارہ روشن کر دیں گے اور ثابت کر دیں گے کہ خرابی نہ قرآن میں تھی نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تھی بلکہ بنی نوع انسان کے فہموں میں خرابی تھی کہ وہ قرآن کریم کے معانی کے سمجھنے سے قاصر ہو گئے تھے یا ان کے دلوں میں خرابی تھی کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اپنے اندر لینے سے محروم ہو گئے تھے۔دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۰۰وَّ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ(الجمعۃ:۳،۴) ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس زمانہ میں بھی نازل فرمایا تھا جس زمانہ میں کہ آپ کی جسمانی بعثت ہوئی تھی اور آئندہ پھر اس زمانہ میں بھی نازل فرمائے گا جبکہ ایسے ہی حالات پیدا ہو جائیں گے یعنی اللہ تعالیٰ آپ کا ایک مثیل ظاہر فرمائے گا جو آپ کی نیابت میں دنیا کو پھر اسلام کی طرف واپس لائے گا اور اسلام کی شوکت کو دنیا میں قائم کرے گا۔اسی زمانہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں قرآن کریم بھی آسمان پر اٹھ جائے گا اور وہ موعود پھر قرآن کو واپس لائے گا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں لَا یَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْـمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْـمُہٗ (مشکوٰۃ المصابیح کتاب العلم) قرآن کریم کا صرف نام اور اس کے الفاظ باقی رہ جائیں گے اس کے معانی سے لوگ ناواقف ہوجائیں گے۔پس وہ موعودپھر قرآن کو آسمان سے واپس لائے گا اور قرآن اپنے کامل علوم اور معرفت سمیت پھر دنیا میں آجائے گا اور یہی نہ ہوگا کہ دنیا کے پاس فقط اس کا نام اور نشان باقی ہو۔خود اس سورۃ میں بھی اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ آگے چل کر بیان فرمایا گیا ہے تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا جو ایک استمرار کا صیغہ ہے یعنی ایسی لیلۃالقدر کی راتیں کئی آنے والی ہیں اور ان میں خدا تعالیٰ کے ملائکہ اور روح اترا کریں گے۔پس جب لیلۃالقدر کئی آنے والی ہیں اور ان میں ملائکہ اور روح اترنے والے ہیں تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آیت زیر تفسیر میں اَنْزَلْنَا کے معنے صرف ماضی کے نہیں بلکہ مستقبل کے بھی ہیں اور قرآن کریم میں ماضی بمعنے مستقبل کئی جگہ استعمال ہوا ہے۔