تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 466

اِنَّاۤاَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ کی آیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت ہے۔اس تاریک رات کو روشن کرنے کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوا اور کون آیا؟ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ نعوذ باللہ جھوٹا تھا تو پھر سب مذاہب ہی جھوٹے ہوئے کہ جو ا س امر پر متفق ہیں کہ تاریکی اور ظلمت کے وقت کے لمبا ہو جانے کی صورت میں ضرور خدا تعالیٰ کا روحانی سورج چڑھتا ہے جس طرح جسمانی رات کے بعد خدا تعالیٰ کا جسمانی سورج چڑھتا ہے۔اس جگہ ایک لطیفہ یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ مسیحی مصنف جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہیں تو آپ کی کامیابی کی یہ دلیل دیا کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے زمانے میں آئے تھے جب سارے مذاہب بگڑ چکے تھے اس لئے آپ کی تعلیم کامیاب ہو گئی(میزان الحق پادری فنڈر فصل ۵ صفحہ ۳۴۲)۔انہیں یہ خیال کبھی نہیں آتا کہ ہم اس دلیل سے خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت بہم پہنچا رہے ہیں۔اگر اس زمانہ میں سارے مذاہب بگڑ چکے تھے اور اس وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک طرف عیسائیوں اور دوسری طرف ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہو گیا تو سوال یہ ہے کہ ایسے ہی زمانہ میں تو خدا تعالیٰ کے رسول آیا کرتے ہیں۔اگر وہ زمانہ واقعہ میں ایسا تھا کہ دنیا کے مذاہب بگڑ چکے تھے اور لوگ اپنے مذاہب کی تعلیمات سے دور جا چکے تھے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے یا تکذیب ؟کیا نبی دنیا میں ایسے زمانہ میں بھی آیا کرتا ہے جب سارے لوگ راستی اور صداقت پر قائم ہوں اور وہ نیک اور با اخلاق ہوں۔کیا مسیحؑ کی کامیابی کی وجہ یہ نہ تھی کہ لوگ بگڑ چکے تھے اور وہ نیکی اور تقویٰ کو ترک کر چکے تھے اس لئے صداقت جھوٹ پر غالب آگئی؟ کیا موسٰی کی کامیابی کی یہی وجہ نہیں تھی ؟کیا کرشنؑ اور رام چندرؑاور زرتشتؑ اور بدھ کی کامیابی کی یہی وجہ نہیں تھی بلکہ ان کے نزول کی یہی وجہ تھی۔اگر اس وجہ سے کسی نبی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے تو پھر تمام نبیوں کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ کوئی نبی بھی ایسے زمانہ میں نہیں آیا جب لوگ درست حالت میں ہوں۔ہمیشہ ہی بد اخلاقی ،بے ایمانی اور گندگی کے پھیل جانے کی صورت میں ہی نبی آیا کرتے ہیں۔اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ میں محمد رسول اللہ کے بار بار دنیا میں آنے کی پیشگوئی چوتھے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کو لیلۃالقدر میں اتارتے رہتے ہیں یعنی نہ صرف قرآن کا پہلا نزول ایک تاریک زمانہ میں ہو ا ہے بلکہ آئندہ بھی جب دنیا میں تاریکی کا زمانہ آئے گا قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں اتریں گے اور پھر بنی نوع انسان کی راہنمائی اور ہدایت کا موجب