تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 43
ہوتی ہے کہ وہ دائیں بائیں گڑھوں سے بچ کر سیدھا چلے اور منزل مقصود سے ورے نہ ٹھہرے۔یہی دو چیزیں مذہب کی جان ہیں اور یہی وہ حقیقت ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ مذہب کی بڑی غرض یہ ہوتی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے بھی اعلیٰ درجہ کا تعلق رکھے اور بنی نوع انسان سے بھی اعلیٰ درجہ کا تعلق رکھے۔نہ حقوق اللہ کے بجا لانے میں کوئی کوتاہی کرے اور نہ حقوق العباد کی بجا آوری میں کوئی کوتاہی کرے۔(ملفوظات) غرض انسان کو ایک معتدل القویٰ نفس عطا کیا گیا ہے اس میں ترقی کا ماد ہ ہے جو اعلیٰ درجہ کے مقصود تک پہنچنے کے لئے ہے۔پھر اس میںاپنے دائیں اور بائیںکو محفوظ رکھنے کا مادہ ہے جس سے اخلا ق کی تکمیل ہوتی ہے۔وہ جانتا ہے کہ فلاں کام مجھے کرنا چاہیے اور فلاں نہیں۔فلاں کام میرے لئے مفید ہے اور فلاں مضر۔جب انسان کے اندر یہ تمام قابلیتیں پائی جاتی ہیںتو تم کسی راہنمااور معلم کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ (۲) مصدری معنوں کے لحاظ سے اس کا یہ مطلب ہو گا کہ انسان معتدل القویٰ ہے اس لئے اس کا معتدل القویٰ ہونا کسی راہنماکی طرف بلاتا ہے گویا دلیل ایک ہی ہے صرف نقطۂ نگاہ کو بدلا ہے۔پہلے معنوں کے لحاظ سے یہ کہا گیا ہے کہ انسان کو معتدل القویٰ بنانے والا اس کی راہنمائی کی صورت کیوں پیدا نہ کرے گا اور دوسرے لحاظ سے یہ معنے ہوں گے کہ اس کا معتدل القویٰ ہونا اس امر کا متقاضی ہے کہ کوئی ا س اعتدال کو کام میں لانے والا راہنمابھی ہو۔گویا مَا کے معنے اگر خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف توجہ دلانے کے سمجھے جائیںتو آیت کا یہ مطلب ہو گا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جس ذات نے انسان میں یہ صفات پیدا کی ہیںوہ کوئی علاج نہ بتاتا اور راہنمائی کی صورت پیدا نہ کرتا۔لیکن اگر مصدری معنے لئے جائیں تو یہ مطلب ہو گا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ انسان میں یہ قوتیں تو موجود ہوں مگر ان قوتوں کے ظہور کا کوئی سامان نہ ہو۔مفہوم ایک ہی ہے مگر ایک استدلال نفس کی بناوٹ سے کیا گیا ہے اور دوسرا استدلال نفس کو بنانے والے کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔وَنَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا کے تیسرے معنے تیسرے معنے وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا کے یہ ہیںکہ ہم اس نفس کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو عظیم الشان ہے اور جس کی طرف آپ ہی آپ انگلیاں اٹھتی ہیں یعنی ہر زمانہ کے نفسِ کامل اور اس خدا کو پیش کرتے ہیں جس نے ایسے کامل وجود کو بنایا۔یہاں نفس گو نکرہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے مگر حقیقتاً اس کی تنوین تفخیم اور تعظیم کے لئے ہے اور نَفْسٍ سے مراد ہر نفس نہیں بلکہ عظیم الشان نفس ہے ( تنوین کا تفخیم اور تعظیم کے لئے آنا عربی زبان کا ایک مروج قاعدہ ہے) اور مراد یہ ہے کہ ہم اس شخص کی طرف تم کو توجہ