تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 44
دلاتے ہیں جو اپنی عظمت ِ شا ن کی وجہ سے اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ گو اس کا نام نہ لو مگر ہر انگلی اس کی طرف خود بخود اٹھنے لگتی ہے۔اس امر کا قرآن کریم کے بعض او ر مقامات سے بھی ثبوت ملتاہے کہ ہر زمانہ میںاللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نبی آتا ہے اس کے دعویٰ سے پہلے ہی لوگوں کی اس کی طرف انگلیاں اٹھنی شروع ہو جاتی ہیں اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہی وہ شخص ہے جو ہماری قوم کو کامیاب کر سکتا ہے چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںذکر فرماتا ہے کہ ان کی قوم کے افرادنے ان سے کہايٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَا(ہود:۶۳) یعنی اے صالح ہمیںتو تم پر بڑی بڑی امیدیں تھیں اور ہم سمجھتے تھے تو بڑے اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے تیرے اندر قوت عملیہ پائی جاتی ہے اور تو قوم کی ترقی کا بڑا فکر رکھتا ہے ہمیںتو امید تھی کہ تو قوم کو اٹھا کر کہیںکا کہیں لے جائے گا مگر تُو تو بڑ ا خراب نکلا اور تونے ہماری تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔تُو ہمیںیہ کہنے لگ گیا ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقِ عمل کو چھوڑ دیںاور تیری بات کو مان کر بتوں کی پرستش نہ کریں۔اب یہ امر ظاہر ہے کہ جن باتوں میں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم اپنی ترقی سمجھتی تھی ان باتوں میں حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم کی ترقی نہیں سمجھتے تھے۔وہ جھوٹ اور فریب اور خدا تعالیٰ سے بُعد میں اپنی ترقی سمجھتے تھے اور حضرت صالح علیہ السلام صداقت اور ہدایت اور خدا تعالیٰ سے تعلق میں اپنی قوم کی ترقی سمجھتے تھے۔بہر حال انہیں یہ امید ضرور تھی کہ ہماری ترقی صالحؑ کے ساتھ وابستہ ہے اور ان کی یہ رائے بالکل درست تھی گو اپنے تنزل کا علاج وہ جن باتوں کو قرار دیتے تھے وہ درست نہیں تھا۔یہی رنگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نظر آتا ہے اور یہی رنگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میں پایا جاتا تھا۔حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ کے خسر صوفی احمد جان صاحبؓلدھیانوی نے دعویٰ سے پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لکھ دیا تھا کہ ؎ ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے گویا دنیا کی نگاہیںاسی وقت سے آپ کی طرف بلند ہو رہی تھیںاور جو انگلی بھی اٹھتی وہ آپ کی طرف اشارہ کرتی۔مولوی برہان الدینؓ صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت مخلص صحابی تھے انہوں نے سنایا کہ جب ابتداء میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر سنا اور مجھے معلوم ہوا کہ پنجاب کے ایک گائوں میں ایسا شخص ظاہر ہوا ہے جس سے اسلام کی آئندہ ترقی وابستہ معلوم ہوتی ہے اور وہی عیسائیوں اور ہندوؤں وغیرہ کے اعتراضات کا جواب دیتا ہے تو میں نے ارادہ کیا کہ آپ کو دیکھنا چاہیے۔چنانچہ میںقادیان آیا مگر یہاں آکر