تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 453

ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کے لئے لفظ قدیر آتا ہے یعنی قدرت والا تو اس کے یہ معنے تو نہیں ہوتے کہ اس سے نمبر اوّل قسم کی قدرت ظاہر ہوتی ہے یا نمبر ۲ قسم کی قدرت ظاہر ہوتی ہے بلکہ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس سے دونوں قسم کی قدرتیں ظاہر ہوتی ہیں۔اسی طرح اگر کسی جگہ قدر کا لفظ آئے توگو کبھی اس سے قسم اوّل کی قدرت مراد ہو گی اور کبھی قسم دوم کی۔یا کبھی اور کسی تیسری قسم کی قدر مراد ہو گی لیکن کبھی وہ سب قسم کی قدر وں کی طرف ایک ہی وقت میں اشارہ کرتا ہو گا۔اس جگہ بھی یہی معنے ہیں اور اَلْقَدْر میں اَلْ جنسی استغراقی ہے یعنی جتنی قسم کی قدریں ہیں وہ سب اس رات میں جمع تھیں۔مفردات راغب نے دو قدریں لکھی ہیں۔لیکن بات یہ ہے کہ یہ دو قسمیں پھر آگے دو قدروں میں تقسیم ہوتی ہیں یعنی اوّل قسم کی روحانی قدر اور اوّل قسم کی جسمانی قدر۔اور دوم قسم کی روحانی قدر اور دوم قسم کی جسمانی قدر۔اسی طرح اور کئی قسم کی قدریں ان سے نکلتی چلی آئیں گی۔پس قَدْر کے لفظ پر اَلْ استعمال کر کے اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ جس رات میں قرآن کریم نازل ہوا اس میں سب قسم کی قدریں جمع ہو گئی تھیں اور وہ رات تمام قدروں کا مجموعہ تھی۔دو قسم کی قدریں جیسا کہ مفردات راغب والوں نے بتایا ہے پہلی تقسیم قدر کی یہ ہے کہ وہ دفعۃً پیدائش کاملہ والی قدراور آہستہ آہستہ ظاہر ہونے والی اجمالی قدر کی دو قسموں میں منقسم ہو جاتی ہے۔ان معنوں کے رو سے اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یہ دونوں قدریں اس رات میں جمع کر دی تھیں۔پھر یہ دونوں قدریں جیسا کہ میں بتا چکا ہوںآگے جسمانی اور روحانی قدروں میں تقسیم ہو جاتی ہیںاس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ قرآن کریم جس رات میں نازل ہوا تھا اس میں یہ چاروں قسم کی قدریں جمع تھیں۔دفعۃً کامل ظہور والی جسمانی قدر بھی اور روحانی قدر بھی اورآہستہ آہستہ مناسب موقعہ اپنے وجود کو ظاہر کرنے والی جسمانی قدر بھی اور روحانی قدر بھی۔اب ہم ان قدروں میں سے ایک کو لے کر دیکھتے ہیں کہ کیا نزول قرآن کی رات میں اس کا وجود پایا جاتا تھا۔پہلی قدر یک دم ظاہر ہونے والی جسمانی قدر ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ سورج یا چاند کی پیدائش کہ شروع دن سے ایک مقصد کے لئے پیدا کئے جاتے ہیں اور جب تک مقدر ہے اپنے کام کو ایک ہی شان سے کرتے جائیں گے۔اس قدر کے مشابہ قدر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا۔وَّ دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا(الاحزاب:۴۶،۴۷) یعنی اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور بشارت دینے والا اور ہوشیار کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن سورج بنا کر بھیجا ہے۔اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات میں سے ایک یہ