تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 454
بھی ہے کہ آپ سورج کی طرح ہیں۔یعنی آپ کے بعض وصف شروع دن سے کامل بنائے گئے تھے اور ان کا ظہور آپ کی روحانی پیدائش کے ساتھ ہی مکمل ہو گیا تھا۔وہ وصف کیا تھے؟ان کی طرف اشارہ لفظ سورج سے کردیا گیا ہے۔سورج کے اندر اپنی پیدائش کے لحاظ سے دو خاص وصف ہیں(۱)اوّل یہ کہ سب اجرام اس کے گرد چکر لگاتے ہیں (۲)دوم یہ کہ وہ اپنے گرد کی اشیا ء کو روشن کرتا ہے۔جہاں تک اس کے گرد چکر لگانے کا سوال ہے تمام اجرام بغیر استثناء اس کے گرد چکر لگاتے ہیںاور جہاں تک روشنی دینے کا سوال ہے وہ چیزیں جو اس کے سامنے آجاتی ہیں انہیں وہ روشنی دیتا ہے اس کی پہلی صفت کو جسمانی کہنا چاہیے اور دوسری کوروحانی۔کیونکہ روحانی صفت کی یہ خصوصیت کہ اس کا ظہور تعلق کی بناء پر ہوتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ کی مادی نصرتیں تو ہر شخص کو خواہ مومن ہو خواہ کافر ملتی ہیں لیکن روحانی نصرتیں صرف انہی کو ملتی ہیں جو اس کے نور کے سامنے اپنی روح اور اپنے دل کو کر دیتے ہیں۔جس دن قرآن کریم نازل ہوا اسی کے مشابہ جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی قدرتیں ظاہر ہوئیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جونہی پہلا کلام نازل ہوا آپ دنیا کے لئے سورج قرار دے دئیے گئے اور دنیا کے لئے یہ مقرر کر دیا گیا کہ وہ آپ کے گرد چکر لگائے بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی ارتقاء ہوتا چلا گیا اور اب تک ہو رہا ہے مگر جہاں تک آپ کے گرد تمام دینی اجرام کے چکر لگانے کا سوال ہے اس میں کوئی فرق نہیں آیا۔جس رات کو آپ پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوا اس رات کو بھی آپ پر ایمان لانا ایسا ہی ضروری تھا جتنا کہ آپ کی زندگی کی آخری گھڑی میں ضروری تھا گویا جو شخص بھی خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنا چاہے اس کے لئے ضروری تھا کہ آپ کے گرد گھومے۔کیونکہ آپ اپنی بعثت کی گھڑی سے دنیا کے لئے سورج کی طرح ہو گئے تھے۔تمام نظام عالم کا مدار آپ پر رکھ دیا گیا تھا۔اس کا ظاہر ی نشان خدا تعالیٰ نے یہ مقرر فرمایا کہ جس طرح سورج کو خدا تعالیٰ کے سوا کوئی توڑ نہیں سکتا اسی طرح آپ کی ذات کو بھی پہلے کلام کے نزول کے وقت سے دنیا کی دستبرد سے محفوظ کر دیا گیا۔چنانچہ شروع سے لے کر آخر تک آپ کے دشمنوں نے آپ کو قتل کرنے کے لئے بے حد زور لگایا ،سینکڑوں منصوبے کئے مگر آپ کی ذات پر آنچ نہ آئی کیونکہ آپ کا وجود سورج تھا اور سورج کو فنا کرنے پر کوئی انسان قادر نہیں ہو سکتا۔پہلی قدرت کی دوسری قسم روحانی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ سورج کا روشنی دینا روحانی ظہور کے مشابہ ہے کیونکہ روشنی سے وہی فائدہ اٹھا تا ہے جو اس کی طرف منہ کرتا ہے اور روحانی امور کی ہی خصوصیت ہے کہ ہر شخص ان سے فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ وہی فائدہ اٹھاتا ہے جو ان کی طرف رغبت کرتا ہے۔یہ قدرت بھی کامل طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پائی جاتی تھی کلام الٰہی کے نازل ہونے کے ساتھ ہی آپ کو فیض روحانی پہنچانے کی قدرت اسی رنگ میں عطا کی