تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 442
آنے والے تمام نبیوں کی نسبت فرماتا ہے وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١ٞ وَ اٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَ اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (البقرۃ: ۸۸) یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے پیچھے اور رسول اس کی پیروی کرنے والے بھیجتے رہے آخر میں عیسیٰ بن مریم آئے انہیں بھی کوئی شریعت کی کتاب نہیں ملی صرف نشانات اور تائیدروح القدس انہیں حاصل تھی۔اس آیت اور اس مضمون کی دوسری آیات کے ہوتے ہوئے اور خود ان نبیوں کی کتابوں کو دیکھتے ہوئے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اس روایت میں صرف صاحب کتاب نبیوں کا ذکر ہے اس وجہ سے حضرت نوح ؑکا ذکر نہیں۔قرآن کریم کی ایک اور آیت بھی اس مفہوم کو رد کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت نوحؑ اور ابراہیمؑ کی نسبت فرماتا ہے وَ اِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ ( الصّٰفّٰت:۸۴) نوح ہی کی جماعت میںسے ابراہیم بھی تھا یعنی حضرت ابراہیم ؑ شارع نبی نہ تھے شارع نبی حضرت نوحؑ تھے اور حضرت ابراہیم ان کی شریعت کے اسی طرح تابع تھے جس طرح اسرائیلی نبی حضرت موسٰی کی شریعت کے تابع تھے۔اس حقیقت پر آگاہ ہو کر کوئی شخص کس طرح کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم کا ذکر اس لئے آیا ہے کہ وہ شارع نبی تھے اور حضرت نوح کا اس لئے ذکر نہیں آیا کہ وہ شارع نبی نہ تھے۔علاوہ ازیں یہ اعتراض بھی اسی توجیہ پر پڑتا ہے کہ اس حدیث میںجس قدر نبیوں کا ذکر ہے وہ اسرائیلی ہیں یہ سوچنے والی بات ہے کہ اسرائیلی نبیوں کا خاص طور پر رمضان سے کیا تعلق تھا بظاہر کوئی نہیں اور اگر اسرائیلی نبیوں کو رمضان سے کوئی خصوصیت نہ تھی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے رو سے تو اور اقوام میں بھی نبی گزرے ہیں ان کے لئے رمضان میں کون سی جگہ ہو گی؟ حضرت ابراہیم ؑ سے پہلے نبی تو حضرت نوحؑ کی طرح اس لئے محروم ہو جائیں گے کہ حضرت ابراہیم ؑ پر پہلی رمضان کو کلام نازل ہوا تھا اس سے پہلے رمضان کی اور کوئی تاریخ نہیں اور بعد کے اس لئے کہ نبی تو کثیر تعداد میں ہوئے ہیں اور رمضان کے دن صرف تیس۳۰ ہیں بلکہ انتیس۲۹۔کیونکہ چوبیسویں یا پچیسویںکو قرآن کریم نازل ہوا تو باقی نبیوں کو اس تاریخ سے پہلے کی کوئی تاریخ ملنی چاہیے۔غرض اگر اس روایت کے معنے ظاہری الفاظ کے مطابق لئے جائیں تو عقلاً بھی اس کے معنے قابل قبول نہیں ہیں۔ان روایات کی تردید جن میں بتایا گیا ہے کہ سب کتب ایک ہی رات نازل ہوئیں اب میں نقل کو لیتا ہوں۔اس روایت میں یہ بتایا گیا ہے کہ سب کتب ایک ہی تاریخ میں یک دم نازل ہوئی ہیں۔یہ امر دونوں سروں سے باطل ہوتا ہے۔آخری نقطہ اس روایت کا قرآن کریم ہے قرآن کریم کی نسبت واضح طور پر معلوم ہے کہ یہ ایک