تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 443
دن میں نازل نہیں ہوا بلکہ تیئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہواہے حتی کہ کفار نے اعتراض کیا کہ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا (الفرقان:۳۳) یعنی کفار کہتے ہیں کہ قرآن اس پر یک دم کیوں نازل نہ ہوا۔جو اعتراض وہ کرتے ہیں درست ہے واقعہ میں وہ یک دم نازل نہیں ہوا لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اتار کر تیرے دل کو مضبوط کرنا چاہتے تھے (تا پہلے حصہ کی پیشگوئیاں پوری ہو کر دوسرے حصہ میں ا س کی طرف اشارہ ہو اور ایمان کی تقویت کی ایک دائمی بنیاد رکھ دی جائے ) اور ہم نے اس کی ترتیب نہایت اعلیٰ درجہ کی بنائی ہے یعنی نزول قرآن اس رنگ میں ہوا ہے کہ موجودہ وقت کے مومنوں کے ذہن نشین قرآن ہو جائے اور موجودہ وقت کے کافروں کے لئے بہترین طریقہ تبلیغ کا پیدا ہو اور بعد کی دائمی ترتیب ہم نے اور طرح رکھی ہے تا کہ وہ بعد میںآنے والوں کی ضرورت کے مطابق ہو۔غرض نزول و ترتیب قرآن نہایت اہم حکمتوں پر مبنی ہے اور اس وجہ سے اس کا ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمانہ کی ضرورت کے مطابق اترنا نہایت اہم حکمتوں پر مبنی تھا اب اس آیت کی موجودگی اور تاریخ کی گواہی کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ سارا قرآن ایک رات میںاترآیا تھا۔پہلے نبیوں کے متعلق بھی یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ ایک رات میں ان پر کلا م اترا تھا حضرت ابراہیم ؑ کی تاریخ تو ہمارے سامنے نہیں اس لئے ان کے بارہ میں تو ہم کچھ کہہ نہیںسکتے حضرت موسٰی، دائودؑ اور حضرت مسیحؑ کی تاریخ تو ہمارے سامنے ہے ان کی کتب کو دیکھ کر کوئی شخص شبہ بھی نہیںکر سکتا کہ وہ ایک وقت میں نازل ہوئی تھیں۔حضرت موسیٰ کی کتب چالیس پچاس سال میںجا کر مدوّن ہوئی ہیں۔ان میںراستوں سفروں ، مقاموں اور لڑائیوں کا بالترتیب ذکر ہے۔حتی کہ یہ بھی ذکر ہے کہ کس طرح موسٰی نے اپنی قوم کی تنظیم کی اور کس طرح وہ جوانی سے ادھیڑ عمر کے ہوئے اور کس طرح بوڑھے ہوئے اور کھڑے ہو کر کام کرنے کے ناقابل ہو گئے۔کیا اس مضمون کو ایک رات کا اترا ہوا مضمون کہا جا سکتا ہے؟ بالکل اسی طرح اناجیل کا مضمون ہے اس میں بھی حضرت عیسیٰ ؑ کے دوروں ، لیکچروں، نشانوں ، خدا کی ہدایتوں کا ترتیب وار ذکر ہے اور کوئی شخص انہیں ایک دن کی اتری ہوئی کتاب نہیں کہہ سکتا۔حضرت دائودؑ کی زبور بھی اسی طرح ہے کہیں اس میںدشمن فوج کے نرغہ میں گھر جانے کا ذکر ہے اور پھر اس سے نجات پانے کا۔کبھی بیمار پڑجانے کا اور پھر اس سے صحت پانے کا۔کبھی دشمنوں کی شرارتوں کا ذکر آتاہے اور پھر ان کے غم سے نجات پانے کا۔غرض دائود کی زبور اس کی زندگی کے اتار چڑھائو کی ایک تاریخ ہے اور ا س کی زندگی کے حالات اس سے منعکس ہوتے ہیں پھر اسے ایک دن کا کلام کس طرح کہا جا سکتا ہے؟