تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 441
تاریخوں کا بھی خاص خیال رکھا گیا تھا کہ جو نبی پہلے آئے اس پر رمضان کی پہلی تاریخوں میں کلام اتارا جائے اور بعد میں آنے والوں پر بعد میں اتارا جائے۔اگر یہ بات ہے تو حضرت نوحؑ اور دیگر انبیاء جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے گزرے ہیں ان پر کس ماہ اور کس تاریخ میں کلام اترا۔کیونکہ حضرت ابراہیم ؑ پر پہلی رمضان کو کلام اترا تھا پس حضرت نوحؑ کے لئے کوئی رات رمضان میں کلام اترنے کی باقی نہیں رہتی۔اگر تو آگے پیچھے کلام اتر سکتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ان پر پہلی کے بعد کی کسی تاریخ میںکلام اترا ہو گا۔لیکن حدیث بتاتی ہے کہ تقدم زمانی کے مطابق رمضان کی تاریخوں میںکلام اتارا گیا ہے پس حضرت نوحؑ چونکہ حضرت ابراہیم ؑ سے پہلے گذرے ہیں اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر جس رات کو کلام اترا اس سے پہلے کسی رات میں ان پر کلام اترنا چاہیے تھا مگر پہلی رات سے پہلے تو اور کوئی رات ہوتی نہیں پس اگر رمضان ہی میں کلام اترنا چاہیے تو حضرت نوحؑ کے لئے کوئی جگہ انبیاء کی صف میں باقی نہیں رہتی۔کہا جا سکتا ہے کہ اس جگہ شارع نبیوں کا ذکر ہے اور حضرت نوحؑ شارع نبی نہ تھے مگر یہ جواب نقل و کلام الٰہی دونوں کے خلاف ہے۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ دائود اور نہ حضرت عیسٰیؑ شریعت لانے والے تھے۔ان کی کتب جیسی بھلی بری بھی موجود ہیں ان میں دیکھ لو شریعت کا نام و نشان نہیں۔حضرت دائود ؑ کی زبور میں تو صرف عشقِ الٰہی کا اظہار اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں ہیں اور کچھ اپنے اور اپنے متعلقین کے لئے دعائیں ہیں۔شریعت سے ان کو دور کاواسطہ بھی نہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل کا بھی یہی حال ہے۔اس میں صرف حضرت عیسیٰ کی زندگی کے حالات ہیں اور کچھ معجزات کا ذکر ہے باقی اس امر پر زور ہے کہ موسٰی کی شریعت پر عمل کرو۔اگر دائودؑ کوئی نئی شریعت لائے تھے یا حضرت عیسٰیؑ کوئی نئی شریعت لائے تھے تو موسٰی کی کتاب کو منسوخ قرار دینا پڑے گا۔اس صورت میں اگر عیسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت نہ تھے تو انہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ دائودؑ کی کتاب پر عمل کرو اور اگر وہ صاحب شریعت تھے تو انہیں یوں کہنا چاہیے تھا کہ میری شریعت پر عمل کرو مگر انجیل تو شریعت سے اس قدر خالی تھی اور ہے کہ یہود کے اعتراض سے بچنے کے لئے حضرت مسیحؑ کے حواریوں کو یہ اعلان کئے بغیر چارہ نہ ہوا کہ شریعت لعنت ہے (گلتیوں باب ۳ آیت ۱۳)کیونکہ اگر وہ اسے رحمت قرار دیتے تو یہود کے اس سوال کا کیا جواب دیتے کہ مسیحؑ کی شریعت کہاں ہے کیونکہ وہ نصاریٰ کے زعم میں پہلے نبیوں سے بڑا تھا اور اس وجہ سے اسے دوسروں کی شریعت کا ناسخ بھی ہونا چاہیے تھا۔قرآن کریم کی رو سے اس دعویٰ پر یہ اعتراض آتا ہے کہ قرآن کریم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد