تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 440

نزول میں ایک ترتیب مد نظر رکھی گئی ہے پہلے شروع رمضان میں کتاب اتری پھر ہفتہ بعد پھر ہفتہ بعد پھر کچھ دنوں بعد آخری چوبیسویںیا پچیسویںکو قرآن کریم نازل ہوا۔اگر ان احادیث کو ظاہر پر محمول کیا جائے تو ان کا مفہوم قرآن کریم، عقل اور نقل کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔قرآن کریم کے خلاف اس لئے کہ قرآن کریم میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ (البقرۃ:۱۸۶) یعنی رمضان کا مہینہ وہ ہے کہ جس میں قرآن کریم اترا ہے۔اگر پہلے انبیاء کا کلام بھی رمضان میںہی اترا تھا تو رمضان کی فضیلت اور بھی بڑھ جاتی ہے اور چاہیے تھا کہ قرآن کریم فرماتا کہ رمضان کا مہینہ تو وہ ہے جس میںہم نے سب کتب سماویہ اتاری ہیںلیکن قرآن کریم ان کا ذکر تک نہیںکرتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی امر کا ذکر نہ کرنے سے اس کا انکار واجب نہیں آتا لیکن چونکہ ان معنوں کے رو سے ماننا پڑتا ہے کہ رمضان کے مہینہ کی فضیلت بتانی مقصود ہے اور پہلی کتب کا بھی رمضان میں اترنا اس کی فضیلت کو بڑھا دیتا ہے اس لئے ا س امر کا اس جگہ بیان کرنا نہایت ضروری تھا لیکن قرآن کریم نے یہاں اس بات کا ذکر نہیں کیا اور نہ کسی اور جگہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ حدیث درست ہے تو ا س کے معنے ظاہری الفاظ کے مطابق نہیںہیں۔دوسرا اعتراض ان روایات پر عقلی طور پر پڑتا ہے اور وہ یہ کہ رمضان قرآن کریم کے نزول کی وجہ سے مبارک ہو گیا۔یہ امر تو سمجھ میںآسکتا ہے لیکن یہ امر کہ جو کلام بھی اترے وہ رمضان میںاترے اس کی کوئی وجہ عقل سے معلوم نہیں ہوتی۔دوسرا عقلی اعتراض اس پر یہ پڑتا ہے کہ رمضان قمری مہینہ ہے اور اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے اگر ایک خاص وقت کو کلام الٰہی سے کوئی خا ص تعلق ہو تو یہ امر بھی سمجھ میں آسکتا ہے لیکن جبکہ یہ مہینہ یہود میں رائج نہ تھا وہ یہ سمجھ بھی نہ سکتے تھے کہ ابراہیم ؑ یا موسٰی یا دائود ؑ یا مسیحؑ کے الہامات کب نازل ہوئے ہیں اور اگر کوئی خاص فائد ہ اس نزول میں تھا تو اس سے نفع نہیں اٹھا سکتے تھے کیونکہ انہیں اس امر کا نہ علم تھا اور نہ علم ہو سکتا تھا۔پھر ا س بات کی تعیین سے کیا فائدہ کہ کلام الٰہی ضرور رمضان میںاترے۔الٰہی فعل کسی حکمت سے خالی کس طرح ہو سکتا ہے ؟ تیسرا عقلی اعتراض ان روایات پر یہ پڑتا ہے کہ ان میں حضرت ابراہیم، موسیٰ، دائود اور عیسیٰ کا ذکر تو آتا ہے لیکن اور نبیوں کا ذکر نہیں آتا۔روایات بتاتی ہیں کہ پہلی رمضان کو حضرت ابراہیم ؑ پر کتاب اتری۔ساتویں کو حضرت موسٰی پر۔بارھویںکو حضرت دائود ؑ پر اور اٹھارھویں کو حضرت مسیحؑ پر۔اس سے ظاہر ہے پہلے نبی پر رمضان کی پہلی تاریخ میں۔دوسرے نبی پر اس کے بعد کی تاریخ میں۔تیسرے نبی پر اس کے بعد کی تاریخ میں۔چوتھے نبی پر اس کے بعد کی تاریخ میں کتاب نازل ہوئی گویا صرف رمضان میں کتاب کا اترنا ہی مقدر نہ کیا گیا تھا بلکہ رمضان کی