تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 439
لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ( یوسف :۳۳) یہ وہ یوسف ہے جس کے بارہ میں یا جس کے سبب سے تم مجھ پر الزام دھرتی تھیں۔اسی طرح حدیث میں ہے عُذِّبَتِ امْرَاَۃٌ فِیْ ھِرَّۃٍ حَبَسَتْـھَا (بخاری کتاب المساقاہ باب فضل سقی الماء ) یعنی ایک عورت ایک بلی کو بے کھلائے پلائے باندھ دینے کی وجہ سے دوزخ میںڈالی گئی۔انہی معنوں میں فِیْ کا حرف آیت اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُمیں استعمال ہوا ہے اور ا س کے معنے یہ ہیں کہ رمضان ایسا مہتم بالشان مہینہ ہے کہ اس کے بارہ میں قرآنی حکم نازل ہوا ہے یعنی قرآن میں جو احکام نازل ہوئے ہیں وہ اہم اور ضروری احکام ہیں۔جس بارہ میں قرآن میں حکم آیا ہو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اہم حکم ہے۔صحفِ ابراہیم، توراۃ، انجیل کے رمضان میں اترنے کے متعلق ایک روایت اور اس کا صحیح مطلب جن لوگوں کے نزدیک اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ رمضان کی ایک خاص رات میں سارا قرآن لوح محفوظ سے سماء الدنیا کے بیت العزۃ میں اترا یا جن کے نزدیک اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ رمضان کی ایک خاص رات کو قرآن کریم کی پہلی وحی نازل ہوئی۔ان میں اس خاص رات کے متعلق بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور اس کے متعلق مختلف احادیث بھی بیان کی جاتی ہیں۔چنانچہ مسند احمد حنبل میںابن الاسقع سے روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اُنْزِلَتْ صُـحُفُ اِبْرَاہِیْمَ فِیْ اَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَّمَضَانَ وَ اُنْزِلَتِ التَّوْرَاۃُ لِسِتٍّ مَّضَیْنَ مِنْ رَمَضَانَ وَالْاِنْـجِیْلُ لِثَلَاثَ عَشْـرَۃَ خَلَتْ مِنْ رَّمَضَانَ وَاَنْزَلَ اللہُ الْقُرْاٰنَ لِاَرْبَعٍ وَّعِشْـرِیْنَ خَلَتْ مِنْ رَّمَضَانَ (مسند احمد بن حنبل عن واثلۃ ابن الاسقع )۔یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم ؑ کے صحیفے تو رمضان کی پہلی رات میںاترے تھے اور موسٰی کی کتاب تورات رمضان کے چھ دن گزرنے کے بعد یعنی ساتویںتاریخ کو اور انجیل تیرھویں کے گزرنے پر یعنی چودھویں رمضان کو اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم رمضان کی چوبیس راتیں گزرنے پر نازل کیا۔بعض لوگوں نے اس سے مراد چھٹی تیرھویں اور چوبیسویںراتیں لی ہیں مگر میرے نزدیک چونکہ گذرنے کے بعد کے الفاظ ہیں اس لئے ساتویں، چودھویںاور پچیسویںراتیں بھی مراد ہو سکتی ہیں۔بہر حال اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ نہ صرف قرآن کریم بلکہ پہلی کتب بھی رمضان کی خاص خاص راتوں میں اتری تھیں ایک روایت جابر بن عبداللہ سے ابن مردویہ میں بھی مروی ہے اس میں یہ زائد بات بھی بیان ہے کہ زبور رمضان کی بارہ تاریخوں کے گزرنے پر نازل ہوئی اور انجیل کی نسبت لکھا ہے کہ وہ اٹھارہ دن گزرنے پر نازل ہوئی۔ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ (۱) قرآن کریم ہی نہیںدوسری کتب بھی رمضان میں ہی اتری ہیں (۲) ان کے