تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 438

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا (تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر) اسی طرح ابن عباس سے ابن مردویہ نے روایت کی ہے کہ ان سے مقسم نے سوال کیا کہ میرے دل میں ایک شک پیدا ہو گیا ہے۔قرآن کریم میں تو آتا ہے کہ قرآن رمضان کے مہینہ میں نازل ہوا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ ایک لمبے عرصہ میں کچھ کسی مہینہ میں کچھ کسی مہینہ میں اور کچھ کسی مہینہ میں اترا ہے۔اس پر ابن عباس نے جواب دیا کہ اِنَّہٗ اُنْزِلَ فِیْ رَمَضَانَ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَفِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ جُـمْلَۃً وَّاحِدَۃً ثُمَّ اُنْزِلَ عَلٰی مَوَاقِعِ النُّجُوْمِ تَرْتِیْلًا فِی الشُّھُوْرِ وَالْاَیَّامِ(تفسیر ابن کثیر زیر آیت شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ)۔یعنی قرآن کریم سب کا سب ایک ہی بار رمضان کے مہینہ اور لیلۃ القدر کی رات میں جو لیلہ مبارکہ بھی کہلاتی ہے اترا تھا۔مگر زمین پر مختلف مہینوںاور دنوں میں آہستہ آہستہ نازل ہوا۔گویا ان لوگوںکے نزدیک قرآن کریم کے لیلۃ القدر میں اترنے کے معنے یہ ہیں کہ اس رات کو لوح محفوظ سے (یعنی اس مقام سے جہاں ان کے نزدیک ازل سے قرآن کریم لکھا پڑا تھا ) قرآن کریم اتراتھا۔بعض کے نزدیک شہر رمضان میں قرآن کریم اترنے سے مراد اس کے نزول کی ابتدا ء ہے۔چنانچہ علامہ ابن حیان لکھتے ہیں وَقِیْلَ الْاِنْزَالُ ھُنَا ھُوَ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَکُوْنُ الْقُرْاٰنُ مِـمَّا عُبِّـرَ بِکُلِّہٖ عَنْ بَعْضِہٖ وَالْمَعْنٰی بُدِیَٔ بِاِنْزَالِہٖ فِیْہِ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ(تفسیـر البحر المحیط زیر آیت شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ) یعنی بعض علماء اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ قرآن کے اترنے سے مراد اس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اترنا ہے نہ کہ بیت العزت پر۔اور قرآن کریم اترنے سے مراد اس کے کچھ حصہ کا اترنا ہے۔پس آیت کے یہ معنے ہیں کہ اس مہینہ میں قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اترنا شروع ہوا تھا۔بعض نے اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ کے یہ معنے کئے ہیں کہ رمضان کے بارہ میں قرآن اترا ہے نہ یہ کہ رمضان کے مہینہ میںقرآن اترا ہے۔چنانچہ تفسیر فتح البیان میںلکھا ہے وَ قِیْلَ فِیْ مَعْنَی الْاٰیَۃِ الَّذِیْ نَزَلَ بِفَرْضِ صِیَامِہِ الْقُرْاٰنُ کَمَا تَقُوْلُ نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ فِی الصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ وَ نَـحْوَ ذَ الِکَ ( فتح البیان زیر آیت شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ) یعنی بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ قرآن کریم کی وحی روزوں کی فرضیت کے بارہ میںنازل ہوئی ہے یہ اسی طرح کا استعمال ہے جیسے کہتے ہیں یہ آیت فِی الصَّلٰوۃِ ہے یعنی یہ آیت نماز کے بارہ میں ہے۔عربی لغت سے ثابت ہے کہ فِیْ کے معنے بارہ کے بھی ہوتے ہیں اور اسے فِیْ تعلیلیہ کہتے ہیں یعنی فِیْ کے بعد میں آنے والی چیز فِیْ سے پہلے کے مضمون کا سبب ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میںدوسری جگہ آتا ہے فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ