تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 437
زیادتی سے بھی معنوں میں فرق پڑجاتا ہے مثلاً لَبَبٌ کے معنے ہیں کھلے سینہ والا۔لیکن لَبْلَبٌ جس میں ایک کی جگہ دو لام آجاتے ہیں اس کے معنے ہیں اَلْبَرُّ بِاَھْلِہِ وَالْمُحْسِنُ اِلٰی جِیْرَانِہٖ (اقرب)اپنے اہل سے حد سے زیادہ نیک سلوک کرنے والا اور اپنے ہمسائیوں پر احسان کرنے والا۔گویا خالی سینہ کی وسعت کے معنے ہی نہیں بلکہ اعلی درجہ کا سلوک عملاً کرنے والا لَبْلَبٌ کہلاتا ہے اس لئے کہ لَبَبٌ میںتین حرف ہیں اور لَبْلَبٌ میںچار ہیں۔عربی قواعد میں یہ قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ بعض دفعہ تاء اسم فاعل کے آخر میں مبالغہ کے لئے لگا دی جاتی ہے اور بطور قاعدہ صفت مشبہ کے آخر میں لگائی جاتی ہے اور اس میں مبالغہ کے معنے پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً راوی عام روایت کرنے والے کو کہتے ہیں اور شعراء کے شعر بیان کرنے والے کو راویۃ کہتے ہیں کیونکہ وہ بالعموم ہزاروں لاکھوں شعروں کی روایت کرتے تھے۔اسی طرح نَسَّاب نسب بیان کرنے والے کو کہتے ہیں اور نَسَّابۃ مبالغہ کے لئے آتا ہے یعنی خوب اچھی طرح نسب بیان کرنے والا(اقرب) پس لَیْل اور لَیْلۃ میںچونکہ لَیْلَۃ کے حروف لَیْل سے زیادہ ہیں اس لئے اس کے معنوں میں لَیْل سے زیادہ وسعت ہے اور یہی وجہ ہے کہ لَیْلَۃ یَوْم کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جس کے معنے نَـھَار سے زیادہ وسیع ہیں اور لَیْل نَـھَار کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جس کے معنے یَوْم سے محدود ہیں۔پس لَیْلَۃ کا لفظ ان راتوں یا اس زمانہ کی نسبت استعمال کر کے جن میںکلام الٰہی نازل ہوتا ہے ان راتوں کی بزرگی اور عظمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔چونکہ الٰہی کلام میں اعلیٰ ادب کے قواعد کے مطابق کبھی الفاظ اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی مجازی معنوں میں۔اس آیت کے متعلق بھی یہ سوال ہے کہ آیا اس میں لَیْلَۃ کا لفظ محض رات کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یا ایک لمبے تاریک زمانہ کے متعلق۔تمام گزشتہ مفسرین اسی طرف گئے ہیں کہ اس آیت میں لَیَلَۃ کے معنے محض رات کے ہیں اور لَیْلَۃُ الْقَدْر کے معنے ہیں اندازہ کی رات۔مفسرین کے نزدیک سورۂ دخان میں جو اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ آیا ہے اس سے بھی یہی رات مراد ہے اور یہ رات رمضان کے مہینہ کی رات ہے جیساکہ سورۂ بقرہ میں آتا ہے شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ۔پس لیلۃالقدر سے مراد رمضان کی وہ رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا تھا وہ رات مبارک تھی اور اندازہ کی رات تھی یعنی آئندہ خیر و شر کا اندازہ اللہ تعالیٰ نے اس میں کیا(الکشّاف زیر آیت اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ۔فـتح البیان زیر آیت اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ۔الجامع لاحکام القراٰن زیر آیت وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ)۔قرآن شریف کے نازل ہونے کے متعلق اختلاف ہے بعض کے نزدیک سارا قرآن اسی رات کو لوحِ محفوظ سے اتر کر بیت العزۃ نامی مقام پر آگیا اس کے بعد آہستہ آہستہ تیئیس سال تک