تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 436

فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً (الاعراف: ۱۴۳) یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلے موسیٰ سے تیس راتیں کلام کرنے کا وعدہ کیا مگر بعد میںدس راتیں اور بڑھادیں اور اس طرح اپنے وعدہ کو مکمل کر دیا۔ان تینوں آیتوں میںبھی لَیْلَۃ کالفظ کلام الٰہی کے نزول کے لئے استعمال ہوا ہے۔ان کے علاوہ چار اور مقام پر لَیْلَۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور چاروں مقامات میںہی نزولِ قرآن کے متعلق نازل ہوا ہے سورۂ دخان میں آتا ہے اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ (الدّخان:۴) ہم نے اس قرآن کو مبارک رات میں اتارا ہے اور دوسرے اسی سورۃ زیر تفسیر میں ہے۔اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ہم نے قرآن کریم کو بڑے اندازہ والی رات میں اتارا ہے پھر اسی سورہ میں اس سے اگلی آیت میں فرماتا ہے وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ اور تجھے کس نے بتایا ہے کہ لیلۃالقدر کیا ہے۔پھر اس آیت سے اگلی آیت میں فرماتا ہے لَيْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ۔لیلۃ القدر ہزار راتوں سے بھی اچھی ہے۔گویا آٹھ مقامات پر لَیْلَۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے او ر ہر جگہ نزول کلام الٰہی یا اس کے متعلقات کے متعلق استعمال ہوا ہے۔یہ امر اتفاق نہیں کہلا سکتا ضرور اس میں کوئی حکمت ہے اور لَیْل اور لَیْلَۃ کے استعمال کا یہ فرق بے معنی نہیں ہے۔میرے نزدیک کلام الٰہی والی راتوں کے متعلق لَیْلَۃ کا استعمال اور دوسری راتوں کے متعلق لَیْلٌ کا استعمال عربی زبان کے اس قاعدہ کی وجہ سے ہے کہ حروف کی زیادتی یا بعد میں آنے والے حروف کی تبدیلی ہمیشہ معنوںمیں زور اور قوت پیدا کرنے کے لئے ہوتی ہے مثلاً رَبَسَ اور رَبَضَ کے ملتے جلتے معنے ہیں لیکن رَبَسَ سے رَبَضَ میں زیادہ زور ہے رَبَسَ کے معنے مارنے کے ہوتے ہیں اور رَبَضَ کے معنے ہیں شیر کا اپنے شکار کو دبوچ کر دبا لینا۔یہ ظاہر ہے کہ صرف مارسے شیر کا اس طرح جھپٹا مار کر دبوچ لینا اور اپنے نیچے دبا لینا زیادہ سخت ہے۔اسی طرح قَصم اور قضم دونوں کے معنے توڑنے کے ہیں مگر قصم کے معنے خالی توڑنے کے ہیں اور قضم کے معنے توڑ کر کھا جانے کے ہیں اس لئے کہ ص سے ض بعد میں آتا ہے۔پس ص کا حرف جس لفظ میں آئے گا اسی مفہوم کے اس لفظ کے معنے زیادہ زور دار ہوں گے جس میں ص کی جگہ ض آجائے گا۔اسی طرح مسّ اور مصّ کے الفاظ ہیں مسّ کے معنے چھونے کے ہیں اور مصّ کے معنے اوپر منہ رکھ کر چوسنے کے ہیںیعنی خالی چھونا نہیں بلکہ اُسے اپنی طرف کھینچنا اسی طرح نَسَّ النَّاقَۃَ کے معنی ہیں اسے چلایا اور ڈانٹا اور نَصَّ النَّاقَۃَ کے معنے ہیں اسے چلنے پر خوب انگیخت کیا اور اسے اتنا مجبور کیا کہ وہ اپنی انتہائی طاقت کے مطابق دوڑنے لگی۔اسی طرح فسل اور فصل دونوں لفظ جدائی پر دلالت کرتے ہیں لیکن فصل کی جدائی فسل سے زیادہ ہے کیونکہ ص س کے بعد آتا ہے۔اسی طرح حروف کی