تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 435
ایک جگہ فرماتا ہے اِنَّاۤاَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَۃِ مُّبٰرَکَۃٍ (الدّخان:۴) یعنی ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔پس لیلۃ القدر لیلۃ المبارکہ بھی ہے ایک دوسری جگہ فرماتا ہے شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ(البقرۃ:۱۸۶)رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن اتارا گیا۔ان دونوں آیات پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کی کسی رات میںقرآن کریم کا نزول ہوا اور اس وجہ سے اس رات کو خاص طور پر مبارک قراردیا گیا۔تفسیر۔اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ میں هُ کی ضمیر سے مراد قرآن کریم اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میںنازل کیا ہے۔چونکہ پہلی سورۃ میںقرآن کریم کا ذکر آچکا تھا اس لئے یہاں بجائے یہ کہنے کے کہ اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا الْقُرْاٰنَ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ اللہ تعالیٰ نے صرف اس کی طرف ضمیر پھیر دی اور کہہ دیا کہ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔کیونکہ یہ بات ہر شخص پہلی سورۃ پر نظر ڈال کر آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا اور اس بات کی ضرورت نہیں تھی کہ قرآن کریم کا خاص طورپر نام لیا جاتا۔لفظ لَیْل اور لَیْلَۃ کے استعمال میں ایک فرق لَیْلَۃ اور لَیْل کے معنے رات کے ہوتے ہیں۔مرزوقی عالمِ لغت کا قول ہے کہ لَیْل کا لفظ نَـھَار کے مقابل استعمال ہوتا ہے اور لَیْلَۃ کا لفظ یَوْم کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے (اقرب) قرآن کریم میں لَیْل اور لَیْلَۃ دونوں الفاظ استعمال ہوتے ہیںلیکن لَیْل کا لفظ زیادہ استعمال ہوا ہے اور لَیْلَۃ کا کم۔میری گنتی کے مطابق لَیْل کا لفظ ۷۹ دفعہ قرآن کریم میںاستعمال ہوا ہے اور لَیْلَۃ کا لفظ صرف آٹھ دفعہ اور عجیب بات یہ ہے کہ لفظ لَیْلَۃ کا استعمال نزول کلام الٰہی یا اس کے متعلقات کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔مثلاً ایک دفعہ رمضان کی رات کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے فرماتا ہے اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىِٕكُمْ(البقرۃ: ۱۸۸) یعنی تمہارے لئے روزوں کی راتوں میںاپنی عورتوں سے بے تکلف ہونا جائز ہے اور روزوںکے مہینہ یعنی رمضان کے متعلق آتا ہے شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ (البقرۃ: ۱۸۶) یعنی رمضان میںقرآن اترنا شروع ہوا تھا۔پس رمضان کی راتوں کو لَیْلۃ کے لفظ سے یاد کرنا لَیْلۃٌ کا تعلق کلام الٰہی والے مہینہ سے ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح تین جگہ لَیْلۃ کا لفظ حضرت موسٰی کی موعود چالیس راتوں کے متعلق استعمال ہوا ہے اور یہ وہ عرصہ ہے جس میںتورات کے اہم احکام نازل کئے گئے تھے اور جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی پیشگوئی کی گئی تھی۔چنانچہ سورۂ بقرہ میںہے وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً (البقرۃ:۵۲)اور یاد کرو جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا۔پھر سورۂ اعراف میںآتا ہے وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ