تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 40

لگ جائے اور اس کے لئے بعض دفعہ ایسے ایسے احمقانہ طریق اختیار کرتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔غرض انسانی فطرت میں راز ِ کائنات معلوم کرنے کی جستجو پائی جاتی ہے اور یہ علوم خواہ کتنے غلط ہوں اس امر پر ایک کھلی شہاد ت ہیں کہ انسان علوم ماوراء الطبعیات کی پیاس رکھتا ہے اور ان کے بغیر اسے چین نہیں آتا۔پھر وہ علوم دنیاوی کی تحقیق میںلگتاہے کہیں آسمانی عالم کی کھال اُدھیڑ نے لگتا ہے، روشنیوںکو پھاڑتا ہے، ستاروں کی چالیںدیکھ دیکھ کر آئندہ کے حالات معلوم کرنے کی کوشش کرتاہے، پھر زمین کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو کہیں کانیں دریافت کرتا ہے، کہیںخزانوں کی دریافت کرتا ہے، کوئی شخص پیتل کی، کوئی لوہے کی، کوئی سونے اور کوئی چاندی کی کانیں دریافت کرنے میںمشغول ہو جاتا ہے، کوئی جڑی بوٹیوں کے خواص معلوم کرتا اور ان کی تحقیق پر تحقیق کرتا چلا جاتا ہے، کوئی دھاتوں کے کُشتے بناتا ہے، کوئی ہوا، کوئی پانی، کوئی بجلی، کوئی آگ اور کوئی دخان کو قابو میںلانے کی کوشش کرتا ہے، کوئی ذرا ذرا سی بات پر جنات کے خیال میںمشغول ہو جاتا ہے۔کسی نے جھوٹ موٹ کہہ دیا کہ میں نے فلاں عمل پڑھا تھا اس کی اس قدر تاثیر ہوئی کہ بس جنات قابو ہوتے ہوتے رہ گئے۔وہ سنتا ہے تو اس کے سر پر بھی جنون سوار ہو جاتا ہے اور وہ بھی جنات کو قابو میں لانے کے لئے سر گرمِ عمل ہو جاتا ہے۔جس طرح کیمیا گر دوسروں کو دھوکا دینے کے لئے کہہ دیا کرتے ہیںکہ میں نے فلاں نسخہ بنایا اور سونا بنتے بنتے رہ گیا۔اسی طرح وہ کہتا ہے کہ میں نے فلاں عمل کیا تو جنات قابو ہوتے ہوتے رہ گئے۔دوسرا شخص سنتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ یہ تو قابو نہ کر سکا مگر میںان کو ضرور قابو کر لوں گا چنانچہ وہ کسی میدان میں اپنے ارد گرد لکیریں کھینچ کر بیٹھ جاتا اور منہ سے بڑبڑانے لگ جاتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ ابھی جنات میرے قابو میں آجائیںگے۔اگر مادی تغیرات ہی کافی سمجھے جاتے تو عاقل اور جاہل دونوں اس قسم کی جدو جہد میںکیوں مشغول ہوتے۔آخر وجہ کیا ہے کہ یورپ کا عاقل بھی اسی میںمشغول ہے اور ہندوستان کا جاہل بھی اِسی میں مشغول ہے۔اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ خالص مادی علوم سے انسانی قلب تسلی نہیں پاتا بلکہ وہ ما وراء الطبعیات علوم کی جستجو چاہتا ہے۔غرض ہر طرف سے مادی عالم میں سرنگ لگانے کی یہ جدو جہد بتاتی ہے کہ اس کے اندر کسی بالائی طاقت کو پانے کی ایک تڑپ ہے جو کبھی کبھی مادی بوجھوں میںدب کر سب کانشس حالت میںچلی جاتی ہے۔یعنی یہ حقیقت کہ خدا ہے اور اس نے دنیا بنائی ہے غائب ہو جاتی ہے مگر اس کی جدو جہد بتا رہی ہوتی ہے کہ اس کے پیچھے بے جانے وہی جذبہ کار فرما ہے۔بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ جاگتے ہوئے انسان اپنے نفس کو قابو میںرکھنے کی کوشش کرتا ہے مگر جب وہ سو جاتا ہے تو اس کے قلب کے اندرونی خیالا ت بعض دفعہ اس کی حرکات سے ظاہر ہو جاتے ہیںکئی لوگ ایسے