تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 41

ہوتے ہیںجو کسی کی کوئی چیز چرا لیتے ہیں دن بھر تو وہ اپنے نفس کو قابو میںرکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی کو ان کی اس چوری کا علم نہ ہو مگر چونکہ سارا دن ان کے دماغ پر یہی خیال مسلط رہتاہے اس لئے جب وہ سوتے ہیںتھوڑی دیر کے بعد ہی بڑبڑانے لگتے ہیں اور ان کی چوری کا لوگوںکو علم ہو جاتا ہے۔بہت سے چور ایسے ہوتے ہیں جن کا لوگوں کو پتہ نہیں لگتا مگر چونکہ ہر وقت انہیں یہی خیال رہتا ہے کہ کہیںلوگوںکو ہماری چوری کا علم نہ ہو جائے اس لئے جب وہ سوتے ہیںخواب کی حالت میںبڑبڑانے لگتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں دیکھنا دیکھنا فلاں کونہ میںنہ جانا وہاں میرا مال پڑا ہے۔دیکھنا کہیںپولیس کو خبر نہ دے دینا۔کبھی بڑبڑاتے ہوئے کہیں گے میں نے فلاں کو خوب لوٹا ہے۔لوگ ان باتوں کو سنتے ہیںتو انہیںفوراً پتہ لگ جاتا ہے کہ یہی چور ہے چنانچہ تحقیق پر تمام مال برآمد ہو جاتاہے۔اسی طرح بعض قاتل ایسے ہوتے ہیں جو جاگتے ہوئے تو اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب سو جاتے ہیں بڑبڑانے لگتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں ارے فلاں شخص کی روح آگئی ہے، ارے مجھے کیوں مارتے ہو، مجھے معاف کر دو میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ہمسایہ ان آوازوں کو سنتا ہے تو اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہی شخص قاتل ہے۔تو انسان کے سب کانشس مائینڈ (غیر شعوری دماغ) میںبہت سے حقائق پوشیدہ ہوتے ہیں۔جب اس کا کانشس مائینڈ (شعوری دماغ ) غافل ہوتا ہے تو سب کانشس مائینڈ ان خیالات کو ظاہر کر دیتا ہے جیسے سوتے ہوئے یا رؤیا میںیا مسمریزم کے ماتحت دوسروں کی زبان سے کئی باتیںنکل آتی ہیں۔اسی طرح دنیا میںبہت سے لوگ ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار کرتے ہیں مگر ان کی زندگی کے حالات ان کے سب کانشس مائینڈ کی کیفیات کو ظاہر کر رہے ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی اور ہستی کی تلاش کی خواہش مٹانے میں کامیاب ہو گئے ہیں مگر ان کے حالات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس خواہش کو مٹانے میں کامیاب نہیں ہوسکے وہ صرف ان خیالات کو دھکیل کر عارضی طورپر پیچھے ہٹانے میںکامیاب ہوتے ہیں مستقل طورپر نہیں۔اور چونکہ یہ تڑپ اکثر سب کانشس حالت میںرہتی ہے انسان اس کا اقرار نہیں کرتا بلکہ کبھی کبھی تھک کر جس طرح بچہ جب کھلونے کی ساخت کو سمجھ نہیں سکتا تو اسے بٹوں سے توڑنے لگتا ہے یہ بھی چڑ کر کسی پیدا کرنے والے کا انکار کر دیتا ہے اور آپ ہی آپ بنے ہوئے عالم کا وجود تسلیم کرنے لگتا ہے۔گھروں میں اکثر یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ جب بچہ کسی کھلونے کو توڑ پھوڑ دیتا ہے تو بعض دفعہ کھسیانا ہو کر کہہ دیتا ہے کہ مجھے کھلونے کی کوئی ضرورت نہیں۔در حقیقت ان الفاظ کے ذریعہ وہ اس بات کا غصہ نکالتا ہے کہ میںنے کھلونا بھی توڑا اور مجھے اس کی حقیقت کا بھی علم نہ ہوا۔دہریہ بھی ایسے ہی ہوتے ہیںوہ اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے خدا تعالیٰ کی ہستی کا انکار کرتے ہیںورنہ ان کے سب کانشس مائینڈ میں