تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 434

شائع کرنا اس لئے ضروری ہے کہ ہم نے اس کو ایک اندازہ والے زمانہ میں اتارا ہے یعنی یہ کتاب دنیا کی ترقی اور اس کے تنزل کے متعلق تمام اندازے اپنے اندر رکھتی ہے۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنیوالا ہے (شروع کرتا ہوں)۔اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ۰۰۲ ہم نے یقیناً اس (قرآن یا محمد رسول اللہ ) کو ایک (عظیم الشان) تقدیر والی رات میں اتارا ہے۔حلّ لُغات۔لَیْلَۃٌ لَیْلَۃٌ اَللَّیْلُ : مِنْ مَّغْرَبِ الشَّمْسِ اِ لٰی طُلُوْعِ الْفَجْرِ الصَّادِقِ اَوْ اِلٰی طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ ھُوَ خِلَافُ النَّـھَارِ۔یعنی سورج کے غروب ہونے کے وقت سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے کے وقت کو لَیْل کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک سورج کے نکلنے تک کے وقت کو اور لَیْل کا لفظ نَـھَار یعنی دن کے بالمقابل بولا جاتا ہے۔بعض علماء لغت کا خیال ہے کہ لَیْلٌ اور لَیْلَۃٌ ایک ہی چیز ہے۔جیسے عربی میں عَشِیٌّ اور عَشِیَّۃٌ ہم معنے ہیں۔لیکن مرزوقی عالمِ لغت کہتے ہیں کہ لَیْل کا لفظ نَـھَار کے مقابل پر بولا جاتا ہے اور لَیْلَۃ کا یَوْم کے مقابل پر (اقرب ) قَدْرٌ قَدْرٌ کے معنے مَبْلَغُ الشَّیْءِ کے ہوتے ہیں یعنی کسی چیز کی جو قیمت ہوتی ہے اس کو قَدْرٌ کہتے ہیں۔اسی طرح قَدْرٌ ایک چیز کے دوسری چیزسے مساوی ہونے کو بھی کہتے ہیں چنانچہ عرب کہتے ہیں ھَذَا قَدْرُ ھٰذَا اَیْ مُـمَاثِلُہٗ وَمُسَاوٍ لَہٗ یعنی فلاں چیز فلاں کے مساوی ہے۔اسی طرح طاقت کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور قَدْرٌ کے معنے حرمت کے بھی ہوتے ہیں اور وقار کے بھی ہوتے ہیںاور غِنَاءٌ کے بھی ہوتے ہیں اور قوت کے بھی ہوتے ہیں اور قَدْرٌ کے معنے اَلْوَقْتُ الَّذِیْ یَلْزَمُ لِفِعْلِہٖ کے بھی ہوتے ہیںیعنی جتنے وقت میںکوئی کام ہو سکتا ہو اس کو بھی قَدْرٌ کہتے ہیںاور چونکہ یہ مصدر ہے اس لئے سارے مصدری معنے بھی اس میںپائے جائیںگے۔اس لحاظ سے اس کے معنے تنگی کے بھی ہیںاور حکم کے بھی اور اقتدار کے بھی اور تعظیم کے بھی اور تدبیر کے بھی اور لیلۃ القدر وہ رات بھی ہے جو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میںسے کسی ایک رات میں آتی ہے(اقرب) قرآن کریم میں بعض اور مقامات پر بھی اس رات کا ذکر آتا ہے مگر وہاں الفاظ اس آیت سے مختلف ہیں۔