تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 433

کرنے کی وجہ سے دے دیا جائے۔پس اس حدیث کا یہ مفہوم قرآنی تعلیم اور عقل کے بالکل خلاف ہے۔ترتیب۔سورۃ القدر کا سورۃ العلق سے تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے تعلق ظاہر ہے وہاں فرمایاتھا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ اپنے رب کے نام کے ساتھ پڑھ جس نے پیدا کیا ہے اور مطلب یہ تھا کہ قرآن پڑھ۔اب اس سورۃ میںقرآن کریم کی فضیلت اور اس کی عظمت کا اظہار کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اِنَّاۤاَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ یہ قرآن لیلۃ القدر میںنازل کیا گیا ہے یعنی یہ وہ کتاب ہے جو دنیا کی ترقی اور اس کے تنزل کے ساتھ تعلق رکھنے والے تمام فیصلوں پر حاوی ہے یا یوںکہہ لو کہ قرآن کریم دنیا کی ترقی اور اس کے تنزّل کے تمام سامانوں کی تفصیل اپنے اندر رکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ آئندہ دنیا کن اصول کے مطابق چل کر ترقی کر سکتی ہے اور کن امور کی پیروی کر کے تباہ ہو سکتی ہے۔جو چیز ایسی اہم ہو کہ اس کو قبول کرنے میںدنیا کی نجات اور اس کو رد کرنے میںدنیا کی تباہی ہو اس کا پڑھنا اور بار بار لوگوںکو سنانا جس قدر ضروری ہو سکتا ہے وہ ایک ظاہر امر ہے ہم تو دیکھتے ہیں دنیا میںلوگ معمولی معمولی باتوں پر ڈھنڈورا پیٹ دیتے ہیں۔عید کا چاند دیکھتے ہیں تو ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں کہ کل عید ہو گی۔نیا مال آتا ہے تو تاجر اور دکاندار لوگوں میں یہ ڈھنڈورا پیٹ دیتے ہیںکہ فلاں فلاں مال ہمارے پاس آیا ہے آئو اور اسے لے جائو۔کسی بادشاہ کے ہاں بیٹا پیدا ہو تو اعلانات کے ذریعہ اس خبر کی خوب تشہیر کی جاتی ہے حالانکہ بعض دفعہ وہ چند دنوں کے بعد ہی مر جاتا ہے اور بعض دفعہ بڑے ہو کر وہ ایسا نالائق ثابت ہوتا ہے کہ باپ دادا کی ساری سلطنت کو کھو دیتا ہے۔اسی طرح ٹِڈی سے ملک کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو گورنمنٹ اخباروں میں اعلانات کراتی ہے کہ ٹڈّی دَل آیا ہوا ہے اس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر فوری طور پر عمل کرنا چاہیے یا مثلاً گورنمنٹ کو معلوم ہو جائے کہ اس دفعہ غلہ کی اچھی قیمت ہو گی یا کپاس کا نرخ بڑھ جائے گا یا بارشیںزیادہ ہوں گی تو گورنمنٹ بار بار ان باتوں کا اعلان کرتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ ہر شخص کے کان تک یہ باتیں پہنچ جائیں۔جب معمولی معمولی چیزوں کے متعلق ڈھنڈورے پیٹے جاتےاور بڑے جوش سے اعلان کئے جاتے ہیں تو وہ چیز جو بنی نوع انسان کی تقدیر کو لے کرآئی ہو ، جو اپنے اندر دنیا کی ترقی اور اس کے تنزل کے سامانوں کی تفصیل رکھتی ہو ، جس پر عمل لوگوں کو نجات دلانے والااور جس سے انحراف ان کو تباہی کے گڑھے میں گرانے والا ہے اس کا زور و شور سے اعلان کرنا کیوں ضروری نہیں؟ پس اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ میں جو یہ کہا گیا تھا کہ قرآن کریم کا دنیا میں خوب ڈھنڈورا پیٹو اور اس کی تعلیم کا بار بار اعلان کرو۔اس سورۃمیں اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ قرآن کریم کا دنیا میں