تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 418

باتوں کی تعلیم دیتے ہیں۔کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تم جو دن رات ٹھگی میں مشغول رہتے ہو، جو جھوٹ اور فریب کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔تم تو سچے ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تقویٰ کے پیکر ہیں اور دوسروں کو بھی تقویٰ کی راہوں پر چلنے کا حکم دیتے ہیں وہ جھوٹے ہوں۔غرض یہ ایک زائد دلیل اللہ تعالیٰ نے پیش کی ہے اور اس طرح پہلی دلیل کو مضبوط کردیا ہے۔فرماتا ہے اگر تم یہ کہو کہ ہمیں چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت میں شبہ ہے اس لئے ہم اسے عبادت سے روک رہے ہیں تب بھی تمہارا کوئی حق نہیں کہ ایسا کرو۔کیونکہ اگر تمہیں یہ شبہ ہے کہ شاید محمد ؐرسول اللہ سچا نہ ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سچا ہو اور تم اس کو جھٹلانے میں ناراستی سے کام لے رہے ہو۔لیکن اگر یہ زائد بات بھی اس میں پائی جاتی ہے کہ وہ نیک اعمال اور تقویٰ و عبادت کی باتوں کا دوسروں کو حکم دیتا ہے اور تم بداعمالی میں مستغرق رہتے ہو تو یہ ایک پختہ دلیل اس امر کی ہے کہ تم صداقت سے بہت دور جارہے ہو۔سورۃ العلق چونکہ بالکل ابتدائی سورۃ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں نتائج کو بیان نہیں کیا۔بلکہ ہر جگہ ان کو چھوڑتا چلا گیا ہے کیونکہ ابھی مکہ والوں کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کھلی مخالفت شروع نہیں ہوئی تھی۔چونکہ ابتدائی ایام تھے اور کفار کو خوامخواہ بھڑکانا مقصود نہیں تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے صرف اَرَءَيْتَ اَرَءَيْتَ کہہ کر اشاروں اشاروں میں ہی حقیقت حال کو بیان کردیا ہے یعنی صرف اتنا ہی کہا ہے کہ مجھے اس شخص کا حال تو بتائو۔لیکن آگے اس شخص کا نام نہیں لیا۔اَرَءَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ۰۰۱۴ پھر (یہ بھی) بتا کہ اگر یہ روکنے والا جھٹلاتا ہے اور (سچائی سے) منہ پھیر لیتا ہے۔اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ؕ۰۰۱۵ تو کیا وہ (یہ) نہیں جانتا کہ اللہ سب کچھ دیکھتا ہے۔تفسیر۔جس طرح اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤى اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى میں گو روئے سخن کفار کی طرف تھا مگر مخاطب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کیا گیا تھا۔اسی طرح اس جگہ گو خطاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر مراد کفار پر اتمام حجت کرنا ہے۔فرماتا ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بتائو جس طرح کفارکو ہماری عبادت کرنے والے بندے کے متعلق یہ احتمال تھا کہ وہ غلط عبادت نہ کررہا ہو کیونکہ وہ اپنی قوم اور اپنے رشتہ داروں کے خلاف