تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 417
اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى ؕ۰۰۱۳ یا تقویٰ کا حکم دیتا ہو (تو پھر اس روکنے والے کا کیا بنے گا) تفسیر۔یہاں ایک زائد بات بیان کرکے پہلے استدلال کو مضبوط کردیا گیا ہے اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤى تک تو شبہ کے انداز میں یہ بات بیان کی تھی کہ تمہارا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبادت سے روکنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر تمہیں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت میں شبہ ہے تو تم خود بھی کسی یقین پر قائم نہیں۔جب تمہارا دعویٰ بھی شک والا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کے متعلق بھی تم شک کررہے ہو تو محض شک کی بناء پر تمہارا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبادت سے روکنا کسی صورت میں قرار نہیں دیا جاسکتا۔آنحضرت صلعم اور آپ کے مخالفین کے عمل میں فرق اب ایک اور بات بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے ہدایت تو دل سے تعلق رکھنے والی چیز ہے۔تم کہہ سکتے ہو کہ ہم نہیں جانتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت پر ہیںیا نہیں۔لیکن کیا تم اس کے تقویٰ کو نہیں دیکھتے۔تقویٰ تو عمل سے تعلق رکھنے والی چیز ہے۔جس کے متعلق یہ عذر نہیں کیا جاسکتا کہ ہم نہیں جانتے فلاں شخص میں تقویٰ پایا جاتا ہے یا نہیں۔اگر دل کی بات کو پہچاننا تمہارے لئے مشکل تھا اور تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدایت یافتہ ہونا پہچان نہیں سکتے تھے تو کیا تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو بھی دیکھنے سے قاصر ہو اور کیا تم اس کو دیکھ کر یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ تم غلطی پر ہو یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلطی پر ہیں۔تم یہ تو کہہ سکتے ہوکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ بتوں کی بجائے اللہ تعالیٰ کی پرستش کرتے ہیں جو ہمارے نزدیک غلطی ہے اس لئے ہم انہیں اس غلطی سے بچانے کے لئے عبادت سے روکتے ہیں۔لیکن کیا تم اس تعلیم کی طرف نہیں دیکھتے جو یہ اپنی زبان سے بیان کررہا ہے اور اس عمل کو نہیں دیکھتے جو یہ اپنے جوارح سے ظاہر کررہاہے اور کیا اس کی تعلیم اور اپنی تعلیم اور اس کے عمل اور اپنے عمل کو دیکھنے کے بعد تم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کون ہدایت پر ہے؟تمہاری حالت یہ ہے کہ تم ٹھگی کرتے ہو، فریب کرتے ہو، جھوٹ بولتے ہو، قسم قسم کی بداخلاقیوں میں ملوث ہو اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، سچائی سے کام لیتے ہیں، غرباء کی مدد کرتے ہیں، ظلم سے روکتے ہیں، نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں، اکرام ضیف کی عادت رکھتے ہیں، امانت اور دیانت میں نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھاتے ہیں اور دوسروں کو اپنی