تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 419

بتوں کی پرستش ترک کرکے اللہ تعالیٰ کے آگے سربسجود ہورہا ہے۔اسی طرح یہ بھی تو احتمال ہوسکتا ہے کہ یہ عبادت سے روکنے والا شخص ہی سچائی کو جھٹلانے والا اور ہدایت سے منہ موڑنے والا ہو اور جس کو عبادت سے روکا جاتا ہو وہ ہدایت پر ہو اور یہ اس کی تکذیب کررہا ہو۔وہ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى کررہا ہو اور یہ تَوَلّٰى اختیار کررہاہو۔وہ کہہ رہا ہو کہ سچائی اختیار کرو۔نیکی اور تقدس کا جامہ پہنو اور یہ اس سے پیٹھ پھیر رہا ہو۔جب یہ بھی احتمال ہے تو اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى کیا اس قسم کے افعال کرنے والے کو یہ خیال نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور وہ میرے اعمال کے مطابق نتیجہ نکالنے پر قادر ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں نہایت لطیف بات کہی ہے فرماتا ہے وہ ہمارے بندے کو عبادت سے روکتا ہے اور پھر کہتا ہے میں کیوں نہ روکوں یہ میرا دوست تھا، میرا ہم وطن تھا اور میرا حق تھا کہ میں اُسے غلط راستہ پر چلنے سے روکوں۔حالانکہ ہوسکتا تھا کہ وہ خود غلطی کررہا ہو۔اگر احتمال اور شبہ پر قائم ہوتے ہوئے اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ہمارے بندے کو روک دے تو کیا اسے یہ خیال نہیں آتا کہ آسمان پر ایک خدا اس نظارہ کو دیکھ رہا ہے۔اگر میں اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈ میں دوسرے کو روک رہا ہوں تو زمین و آسمان کا طاقتور بادشاہ جو میرے اس ظلم کو دیکھ رہاہے وہ بھی طاقت رکھتا ہے کہ مجھے اس ظلم کی سزا دے۔اگر ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت میں دخل دیں اور کہیں ہم نے اس لئے دخل دیا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں یہ غلطی کررہا ہے تو اگر اس کے مقابلہ میں تم غلطی کررہے ہو تو یقیناً اس اصول کے مطابق خدا تعالیٰ کو بھی حق حاصل ہوگا کہ وہ تمہیں پکڑے۔آج تم ہمارے بندے کو عبادت سے روک رہے ہو اور کہتے ہو کہ ہم سمجھتے ہیں یہ غلطی کررہا ہے اگر تم ایک فرضی قیاس سے کام لینے کے بعد ہمارے بندے کو روکنے کا حق رکھتے ہو تو پھر یاد رکھو اگر تمہاری تکذیب اور تَوَلّٰى پر اللہ تعالیٰ نے بھی تم کو پکڑ لیا تو شکوہ نہ کرنا۔اگر تمہیں جہالت اور قیاس سے دوسرے کے معاملات میں دخل دینے کا حق حاصل ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کو علم اور حقیقت حال سے واقف ہونے کے نتیجہ میں تمہارے معاملات میں دخل دینے کا بدرجۂ اولیٰ حق حاصل ہے۔پھر یہ شکوہ نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عذاب میں مبتلا کردیا۔پس اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى میں کفار کے انجام کی طرف اشارہ ہے اوربتایا گیا ہے کہ ایک دن یہ لوگ خدائی گرفت میں آنے والے ہیں۔