تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 415
حکومت اور نظام کا کوئی نقصان نہیں تھا۔مگر چونکہ اس میں عبادت کرنے والے کا اپنا نقصان تھا اور ہم نے دیکھا کہ وہ ایک برا کام کررہا ہے ہم نے ہمدردی اور محبت کے پیش نظر اسے روک دیا تاکہ اس کام کے برے نتائج سے وہ محفوظ رہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰى۔مجھے بتائو تو سہی اگر ہمارا وہ بندہ ہدایت پر ہو۔مطلب یہ ہے کہ وہ ہدایت پر ہے۔یہ بھی گفتگو کا ایک طریق ہوتا ہے کہ الفاظ شک کے استعمال کئے جاتے ہیں مگر مراد الٹ ہوتی ہے۔ہر زبان کا یہ طریقہ ہے مثلاً اردو میں بھی بولتے ہیں شاید میں نے اسی طرح کرنا ہو اور مراد ہوتی ہے اسی طرح کرنا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰى یعنی اِنْ کَانَ مُـحَمَّدٌ اَوْ اِنْ کَانَ الْعَبْدُ الْمُصَلِّیْ عَلَی الْھُدٰی۔اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا ہمارا وہ بندہ جو ہماری عبادت کررہا ہے سچا ہوا توپھر اس کو روکنے والے کا کیا حال ہوگا۔مطلب یہ ہے کہ تم اپنے فعل کے جواز میں یہ کہہ رہے ہو کہ ہم اسے عبادت سے اس لئے روک رہے ہیں کہ یہ کہیں دوزخ میں نہ جاپڑے۔کہیں اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی ناراضگی کا مورد نہ بن جائے۔حالانکہ جب یہ معاملہ اگلے جہان سے تعلق رکھتا ہے اور اگلا جہان وہ ہے جو نہ تم نے دیکھا اور نہ تمہارے باپ دادا نے۔تو تمہیں کیونکر پتہ لگا کہ اس فعل کا نتیجہ ضرور خراب نکلے گا۔اگر ذاتی طور پر تم سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچائی پر قائم نہیں تب بھی تمہیں عبادت سے روکنے کا کوئی حق نہیں تھا کیونکہ تم کسی یقین کی بناء پر ایسا نہیں کہہ رہے۔تم زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہو کہ شاید یہ حق پر نہ ہو۔اس لئے ہم اسے روکنا چاہتے ہیں۔حالانکہ اس کے مقابلہ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حق پر ہو اور تم اسے روک کر ظالم بن رہے ہو۔بہرحال جب یہ معاملہ اگلے جہان سے تعلق رکھتا ہے جس کے متعلق تمہارا علم کسی قطعی بنیاد پر قائم نہیں بلکہ ایک ڈھکونسلہ ہے۔تم خیال کرتے ہو کہ شاید یہ جھوٹا ہو۔شاید یہ برا کام کررہا ہو۔تو محض ایک ظن کی بنا پر تمہیں اس کو روکنے کا حق کہاں سے پیدا ہوگیا۔جبکہ ہوسکتا ہے کہ یہ ہدایت پر ہو اور تم جو اسے روک رہے ہو گمراہی اور ضلالت میں پڑے ہوئے ہو۔دوسرے کو انسان اسی وقت کسی کام سے روک سکتاہے جب اس کے علم کی بنیاد یقین پر ہو۔مثلاً اگر کوئی بچہ کنوئیں میں گر نے لگے اور ماں باپ پاس نہ ہوں تو ہر شخص حق رکھتا ہے کہ اسے روکے کیونکہ اس کا نتیجہ یقیناً ہلاکت ہے۔لیکن اگر ایک شخص تجارت کرنے لگے، زید کا خیال ہو کہ مجھے نفع ہوگا اور بکر کا خیال ہو کہ نفع نہیں ہوگا تو ایسی صورت میں اگر بکر زید سے لڑ پڑے اور اسے تجارت سے روک دے تو ہر شخص بکر کو ملزم قرار دے گا اور اگر مجسٹریٹ کے پاس مقدمہ جائے گا تو وہ یقیناً بکر کو سزا دے گا اورکہے گا کہ یہ کون سی بدیہی بات تھی جس کی بناء پر تم نے