تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 414

کا اختلاف نہیں۔ایک شخص اپنے گھر میں خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور دوسرا شخص اسے پکڑ کے عبادت سے روکنا شروع کردیتا ہے۔کیا اس میں کوئی بھی معقولیت پائی جاتی ہے۔کیا یہ بھی کوئی انسانیت ہے کہ خدا تعالیٰ کا بندہ خدا تعالیٰ کے سامنے عبادت کررہا ہے اور ابوجہل اپنے گھر میں بیٹھے یونہی اچھل کود رہا ہے نہ لینا نہ دینا۔نہ تعلق نہ واسطہ اور وہ یونہی سیخ پا ہورہا ہے۔یہ نہیں کہ نماز پڑھتے وقت کوئی ابوجہل کا گھوڑا کھول کر لے جاتا ہے یا اس کا اسباب اٹھا کر لے جاتا ہے جس کی بناء پر اسے غصہ پیدا ہوتا ہے۔ایک شخص کھڑے ہوکر نماز پڑھتا ہے اور ابوجہل صفت شور مچانا شروع کردیتا ہے کہ ماردیا، ماردیا۔کیا اتنی غیرمعقول حرکتیں کرنے والا انسان بھی یہ سمجھتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں۔چونکہ پہلی آیات میں اس امر کا ذکر تھا کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں دینی معاملات میں الٰہی راہنمائی کی ضرورت نہیں وہ اپنی عقل سے اپنے لئے خود بخود ایک راہ تجویز کرسکتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو ملزم کرنے کے لئے یہ مثال پیش کی ہے اور فرمایا ہے کہ تم جو دن رات یہ رٹ لگارہے ہو کہ ہمیں دینی معاملات میں اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں۔تم اپنے حالات پر غور کرو اور دیکھو کہ تمہارا یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے۔تم اگر کسی اور کی طرف نہیں دیکھ سکتے تو ابوجہل یا دوسرے لیڈروں کو ہی دیکھ لو۔وہ قوم کے سردار ہیں، دنیوی معاملات میں لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں، فوجوں کی کمان کرتے ہیں اور لوگوں پر ان کی دانائی کا سکہ بیٹھا ہوا ہے مگر دین کے معاملہ میں ان کی عقل اس قدرماری ہوئی ہے کہ ایک بندہ اکیلا اپنے گھر میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو وہ اچھلنے کودنے لگ جاتے ہیں۔جن لوگوں کی نابینائی اس قدر بڑھ چکی ہو اور جو دینی معاملات میں اس قدر حماقت اور جہالت کے کاموں پر اتر آئے ہوں ان کے متعلق تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ وہ اس روحانی میدان میں اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر ایک قدم بھی اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ۰۰۱۲ (اے مخاطب) تو (مجھے) بتا تو سہی کہ اگر وہ (نماز پڑھنے والا بندہ) ہدایت پر ہو؟ تفسیر۔اس موقعہ پر ابوجہل صفات والوں کی طرف سے کہا جاسکتا تھا کہ تم جو اعتراض کرتے ہو کہ ہم نے عبادت میں کیوں دخل دیا یہ درست نہیں۔بے شک اس میں ہمارا کوئی نقصان نہیں تھا۔ہماری قوم کا کوئی نقصان نہیں تھا۔