تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 416

دوسرے کو تجارت کرنے سے روک دیا۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص زہر کی پڑیا کھانے لگے تو ہم اسے روک دیں کیونکہ یہ بدیہی بات ہے کہ زہر کا نتیجہ ہلاکت ہے۔لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم کسی کو کھانے سے اس لئے روک دیں کہ ممکن ہے کہ اس کے نتیجہ میں تمہیں ہیضہ ہو جائے یا پیچش شروع ہوجائے۔بہرحال جہاں قطعی اور یقینی نقصان ہو وہاں ہردوست اور ہمسایہ حق رکھتا ہے کہ دوسرے کو نقصان سے بچانے کی کوشش کرے۔مگر جس امر کے متعلق یقین نہ ہو اس معاملہ میں کسی دوسرے کا دخل دینا اوّل درجہ کی حماقت ہوتی ہے۔چونکہ یہاںعبادت کا معاملہ ہے جس کے متعلق کفار کسی یقین پر قائم نہیں تھے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری یہ دلیل قطعی طور پر غلط ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان سے بچانے کے لئے عبادت سے روک رہے ہیں۔تم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہو کہ شاید یہ ہدایت پر نہ ہو۔شاید یہ گمراہی میں مبتلا ہو حالانکہ اس کے مقابلہ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہدایت پر ہو اور تم گمراہی میں مبتلا ہو۔جب یہ معاملہ ایسا ہے جس میں تمہیں صرف شبہ ہی شبہ ہے اور دوسری طرف ایک جوان اور بالغ انسان اپنی مرضی سے ایک قدم اٹھار ہا ہے تو تم اس کو روکنے والے کون ہو۔دنیا میں یہی طریق رائج ہے کہ جب کوئی بالغ، جوان اور سمجھدار انسان کوئی ایسا کام شروع کرتا ہے جس کے دونوں پہلو ہوسکتے ہوں مفید بھی اور مضر بھی تو کوئی شخص اس کو روکا نہیں کرتا ایک شخص سفر پر جاتا ہے تو وہ نقصان بھی اٹھاسکتا ہے اور فائدہ بھی اٹھاسکتا ہے۔ایک شخص تجارت کرتا ہے تو وہ نقصان بھی اٹھاسکتاہے اور فائدہ بھی اٹھاسکتا ہے مگر کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ سفر یا تجارت سے کسی کو اس لئے روک دے کہ میرا خیال ہے تمہیں نقصان ہوگا۔یا چونکہ میں سمجھتا ہوں کہ تمہارا بمبئی جانا مفید نہیں اس لئے میں تمہیں گھر سے نکلنے نہیں دیتا۔ہر شخص ایسے انسان کو پاگل قرار دے گا او رکہے گا کہ تمہیں کیا پتہ کہ اس سفر یا تجارت کا نتیجہ اچھا ہے یا برا۔تم زیادہ سے زیادہ ایک قیاس کررہے ہو حالانکہ اس کے مقابلہ میں یہ بھی قیاس ہوسکتا ہے کہ اسے فائدہ ہو۔اس لئے تمہارا روکنا جنون کی علامت ہے۔یہی بات اللہ تعالیٰ اس جگہ بیان کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جوان، عاقل اور سمجھدار انسان ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہی انسان کا فائدہ ہے۔اگر وہ عبادت کرتے ہیں تو تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم انہیں عبادت سے روکو۔ہم مانتے ہیں کہ تم عبادت کی اہمیت تسلیم نہیں کرتے۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کی بنیاد محض شک پر ہے۔اس لئے خواہ تم عبادت کو اچھا نہیں سمجھتے تب بھی عقلی طور پر تمہیں ہرگز یہ حق حاصل نہیں تھا کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبادت سے روکتے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا صحیح نتیجہ مشکوک ہے تو تمہارے اس فعل بد کا اچھا نتیجہ کیونکر نکلے گا۔