تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 33

کر رہی ہے اور جس کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے فرماتا ہے ہم تمہارے سامنے آسمان کو اور جس نے اسے اس طرح بنایاہے بطور شہادت پیش کرتے ہیںاسی طرح ہم تمہارے سامنے زمین کو اور جس نے اسے اس طرح بچھایا ہے بطور شہادت پیش کرتے ہیں۔تم آسمان کو اس کی بلندی اور رفعت کے لحاظ سے دیکھو اورزمین کو اس کی ان قابلیتوں کے لحاظ سے دیکھو جن کی وجہ سے انسان اس میں بسنے کے قابل ہوا ہے اور سمجھ لو کہ آسمانی اور زمینی شہادتیں جس کے حق میں ہوں وہ جھوٹا کس طرح ہو سکتا یا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ادھر اللہ تعالیٰ آسمان بناتا جو بڑا مضبوط او ر اعلیٰ درجے کا ہے دوسری طرف وہ زمین کو اس قابل بناتا کہ اس میں بنی نو ع انسان رہائش اختیار کر سکیںاو ر پھر یہ تمام کارخانہء عالم محض عبث ہوتا اور انسانی پیدائش کا کوئی مقصد نہ ہوتا۔کیا تم نہیںدیکھتے کہ اس نے زمین کو بہت سے دوسرے سیاروں سے مختلف شکل دی ہے وہاں ذی روح زندہ نہیں رہ سکتے، وہ سانس نہیںلے سکتے، وہ چل پھر نہیں سکتے۔مگر یہ زمین خدا تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ اس میںذی روح افراد سانس لے سکتے ہیں، ان کے دماغ پوری طرح کام کرسکتے ہیں اور وہ اپنی ہر ضرورت اس ماحول میں سے مہیا کر سکتے ہیں۔ورنہ ایسی زمین بھی ہو سکتی تھی کہ مختلف گیسوں کی وجہ سے حیوان تو اس میں بس سکتے مگر انسان نہ بس سکتا۔مگر چونکہ انسان کے لئے ایک ایسے ماحول کی ضرورت تھی جس میں اس کا دماغی نشوونما جاری رہتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر ایسی قابلیتیںپیدا کر دیں کہ انسان اس میں بلا دریغ رہائش اختیار کر کے اپنے دماغی ارتقاء کو جاری رکھ سکتاہے۔اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کی اس مثال کو پیش کرتے ہوئے اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ جب اس نے اتنا بڑا کارخانہ بنایا ہے اور اس کارخانہ کا ہر پرزہ انسان کی خدمت کے لئے لگا ہوا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تمہاری پیدائش اپنے اندر کوئی حکمت نہ رکھتی ہو اور تمہیں اللہ تعالیٰ نے بلا وجہ محض لغو طور پر دنیا میں پیدا کر دیا ہو۔ادھر آسمان کو نہایت مضبوط اور اعلیٰ درجہ کا بنانا، ادھر زمین کو رہائش کے قابل بنانا اور اس طرح قانونِ قدرت کا ایک وسیع اور طویل نظام کی شکل اختیا ر کرلینا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ کام عبث نہیں۔جب تم اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کی تیاری کو عبث نہیں کہتے تو تم اتنے بڑے نظام کو عبث کس طرح قرار دے سکتے ہو تمہیں بہرحال ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بہت بڑا مقصد او ربڑا بھاری مدعا ہے جو اس کارخانہء عالم کے پیچھے کام کر رہا ہے اور ضرور ہے کہ اس کا وہ منشاء ایک دن ظاہر ہو اور وہ مقصد پورا ہو جس کے لئے اس نے آسمان اور زمین کا یہ نظام قائم فرمایا تھا۔اگر مادیات میں اس نے ایک طرف آسمان میںبلندی اور فیوض کی طاقت رکھی ہے اور دوسری طرف زمین میں رہائش اور دماغ کو نشوونما دینے کی قابلیت رکھی ہے تو یہ ممکن ہی کس طرح ہے کہ وہ تمہارے جسمانی آرام کاتو