تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 34

خیال رکھے اور روحانی آرام کو نظر انداز کر دے۔وہ تمہارے چند روزہ فوائد کے لئے تو اتنا بڑا کارخانہ جاری کر دے اور تمہارے ابدی فوائد کے لئے کوئی نظام قائم نہ کرے۔جس خدا نے جسمانیات کے لحا ظ سے تمہارا ساتھ نہیں چھوڑا وہ روحانیات کے لحاظ سے بھی تمہارا ساتھ کبھی چھوڑ نہیں سکتا۔تم زمین اور آسمان پر اگر مخلّٰی بالطبع ہو کر غور کر و تو تمہیںمعلوم ہو گا کہ جس خدا کی طرف سے تمہارے جسمانی آرام کے لئے اس قدر سامان مہیا کئے گئے ہیں اسی خدا کی طرف سے تمہارے روحانی ارتقاء کے لئے بھی ایسے قوانین کا آنا ضروری ہے جو نہایت اعلیٰ درجہ کی زندگی بسر کرنے کے قابل بنا دیں تا کہ جس طرح اس نے زمین کو جسمانیات کے لحاظ سے رہنے کے قابل بنایا ہے اسی طرح وہ روحانیات کے لحاظ سے بھی اس کو رہنے کے قابل بنائے ورنہ خدا تعالیٰ پر یہ الزام عائد ہو گا کہ اس نے جسم کا تو خیال رکھا مگر روح کا خیال نہ رکھا۔اس نے مادی ترقی کے سامان تو مہیا کئے مگر روحانی ترقی کے سامان مہیا نہ کئے۔اور یہ ایک ایسا الزام ہے جسے خدا تعالیٰ کی صفات بالکل ردّ کرتی ہیں۔اس نے جسمانی نظام کے بالمقابل ایک روحانی نظام بھی قائم کیا ہے اور جس طرح جسم کی ترقی کے اس نے سامان کئے ہیں اسی طرح روح کی ترقی کے بھی اس نے سامان کئے ہیں۔نادان انسان جسمانیات کو دیکھتا اور روحانیات سے آنکھیں بند کر لیتا ہے حالانکہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ زمین کو جسمانی لحاظ سے تو رہائش کے قابل بنائے مگر روحانی لحاظ سے وہ اس کو قابلِ رہائش بنانے کا کوئی انتظام نہ کرے۔یا تو یہ کہو کہ مادی لحاظ سے بھی زمین میں یہ قابلیت نہیں کہ اس میں انسان رہ سکیںاور اگر تم یہ نہیں کہہ سکتے تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ روحانی لحاظ سے بھی اس میں یہ ضرور قابلیت پائی جاتی ہے اور وہی قابلیت ہے جس کے ماتحت وہ لوگ جو آج اسلام کی مخالفت کر رہے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو قبول کرنے کے لئے دوڑتے چلے آئیں گے تم خواہ کس قدر زور لگا لو فطرتِ انسانی میں نیکی پائی جاتی ہے اور وہی نیکی ہے جو ایک دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر دے گی۔جس طرح زمین اپنے آپ کو آسمانی فیوض سے الگ نہیں کر سکتی اسی طرح انسانی قلوب بھی آسمانی وحی سے الگ نہیں رہ سکتے ضرور ہے کہ وہ ایک دن متاثر ہوں اور اس طرح جسمانی اور روحانی نظام کی ایک دن مطابقت ثابت ہو۔وَالْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا کے دوسرے معنے دوسری صورت میں اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تم آسمان اور اس کی بناوٹ کو دیکھو اور سمجھ لو کہ آسمان کی بناوٹ ہی فیض رسانی کے لئے ہے اور زمین کی بناوٹ ہی سائل اور مانگنے والے کی ہے پس بغیر اس آسمانی نورانی وجود کے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات ہے تم لوگ کوئی بھی خوبی ظاہر نہیں کر سکتے آسمان کا کام آسمان ہی کر سکتا ہے اور زمین اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتی کہ وہ آسمان کی طرف منہ