تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 32

قرآن کریم میںاس قسم کے الفاظ دیکھتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے اس احسان یا اس کی اس صنعت کا ذکر ہوتا ہے کہ اس نے زمین کو انسان کی رہائش کے قابل بنایا ہے تو وہ حیران ہوتے ہیںکہ اس ذکر کا فائدہ ہی کیا تھا ہم نے بہرحال زمین میں ہی رہنا تھا اگر یہ زمین نہ ہوتی تو کوئی اور زمین ہوجاتی اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑسکتا تھا۔وہ لوگ جو اس قسم کے خیالات میں مبتلا ہوتے ہیں در حقیقت علم ہیئت سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔موجودہ تحقیقات نے اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ ہر زمین رہائش کے قابل نہیں ہوتی۔بعض زمینیںایسی ہیں کہ اگر وہاں انسان جائے تو ایک منٹ کے اندر اندر ہلاک ہو جائے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم نے ہی سب سے پہلے اس نکتہ کو دنیا پر ظاہر کیا ہے کہ ہر زمین رہائش کے قابل نہیں ہے او ر یہ قرآن کریم کے منجانب اللہ ہونے کا ایک زبر دست ثبوت ہے۔قرآن ایک اُمّی پر نازل ہوا اور اس زمانہ میں نازل ہوا جب کہ علم ہیئت کی ترقی بالکل محدود تھی اور اس قسم کے مسائل کی طرف کوئی انسانی نظر نہیں جا سکتی تھی اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے وَالْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا میں یہ ایک نہایت ہی لطیف راز بیان فرمایا کہ ہر زمین رہائش کے قابل نہیں ہے اس لئے جب تم زمین کو دیکھو تو صانع عظیم کی اس صنعت پر غور کیا کرو کہ کس طرح اس نے تمہارے لئے اس زمین کو قابلِ رہائش بنایا اور زندگی کے ہر قسم کے سامان اس نے تمہارے لئے مہیا کئے۔سپکٹروسکوپ SPECTROSCOPE کی ایجاد کو صرف ستّر ۷۰ سال ہوئے ہیں۔اس آلہ کی ایجاد سے پہلے دنیا اس حقیقت سے ناواقف تھی مگر جب سے یہ آلہ ایجاد ہوا ہے علمِ ہیئت کے ماہرین نے اس راز کا انکشاف کیا ہے کہ ہر ستارہ رہنے کے قابل نہیں ہے وہ سیاروں کی روشنی کا سپکٹروسکوپ کے ذریعہ سے کیمیاوی تجزیہ کرتے ہیں اور اس سے اندازہ لگاتے ہیں کہ اس سیارہ میں کیا کیا دھاتیں ہیں اور وہاں کی فضا کیسی ہے۔اس ایجاد کے نتیجہ میں انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر زمین اس قابل نہیں کہ اس میں رہائش اختیا ر کی جاسکے مگر اللہ تعالیٰ نے سپکٹروسکوپ کی ایجاد سے تیرہ سو برس پہلے یہ فرما دیا تھا کہ وَالْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا ہماری اس صنعت پر تم غور کرو کہ ہم نے اس زمین کو تمہاری رہائش کے قابل بنایا ہے۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ بھی ایک ویسی ہی زمین ہے جیسے اور زمینیں ہیں بلکہ تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ وہ زمین ہے جسے خدا تعالیٰ نے خاص طور پر نسل انسانی کی رہائش او ر اس کی آبادی کے قابل بنایا۔گویا خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ وہ جو بھی کام کرتا ہے اس کے مناسب حال ایک ماحول بھی تیار کرتا ہے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ انسان پیدا کرتا اور زمین کو اس کے مناسب حال نہ بناتا۔یا انسان پیدا کرتا اور وہ زمین سے فائدہ نہ اٹھا سکتا۔اللہ تعالیٰ کی شان سے یہ بالکل بعید ہے کہ وہ ایسا کرے۔ان معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم الشان صنعت پر غور کرو جو آسمان اور زمین دونوں میں کام